तिरा आना ही अब मरकूज़ है हम को दम-ए-आख़िर
ये जी सदक़े किया था फिर न आवे तन में या आवे
“Returning to the river is now our final destination, This life was lived in vain, and either it won't come back to the body, or it will.”
— میر تقی میر
معنی
تیرا آنا ہی اب ہمارا آخری ٹھکانہ ہے، یہ زندگی بے کار گزری تھی، اور یا تو یہ جسم میں واپس نہیں آئے گی یا آئے گی۔
تشریح
یہ شعر ایک عاشق کے آخری समर्पण کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ اب ان کے لیے محبوب کا آنا ہی آخری منزل ہے۔ وہ زندگی کی فانی حقیقت پر غور کرتے ہیں، کہ یہ زندگی صرف اسی کے لیے گزری، جو نہ واپس آ سکتی ہے اور نہ کبھی مکمل طور پر جی جا سکتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
