ये रस्म-ए-आमद-ओ-रफ़्त-ए-दयार-ए-इश्क़ ताज़ा है
हँसी वो जाए मेरी और रोना यूँ चला आवे
“The custom of coming and going in the abode of love is fresh; laughter leaves me and crying flows like this.”
— میر تقی میر
معنی
یہ رسمِ آمد و رفتِ دِیاَرِ عشق تازہ ہے؛ ہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے۔
تشریح
یہ شعر عشق کے سفر کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے، جہاں خوشی اور غم کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔ ایک لمحے کی ہنسی بھی دل کو بے چین کر کے، مسلسل آنسوؤں کی بارش کر دیتی ہے۔
