غزل
हम ने जाना था सुख़न होंगे ज़बाँ पर कितने
हम ने जाना था सुख़न होंगे ज़बाँ पर कितने
یہ غزل زندگی کے تجربات اور جذبات کی گہرائی کو پیش کرتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ زبان پر کتنے شیریں الفاظ ہوں گے، لیکن قلم کی سیاہی سے کتنے دفتر بھرے گئے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر گوشے میں چھپے ہنر اور عشق کی پیچیدگی پر غور کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
हम ने जाना था सुख़न होंगे ज़बाँ पर कितने
पर क़लम हाथ जो आई लिखे दफ़्तर कितने
ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے
پر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے
ہم نے جانا تھا کہ زباں پر کتنے سُخن ہوں گے، پر جب قلم ہاتھ آیا تو دفتر میں کتنے لکھے۔
2
मैं ने इस उस सन्ना' से सर खींचा है
कि हर इक कूचे में जिस के थे हुनर-वर कितने
میں نے اس اس صناع سے سر کھینچا ہے
کہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے
میں نے اس سُناٹے سے ایک دھاگا کھینچا ہے، کہ ہر ایک گلی میں جن کے ہنر-ور تھے، وہ کتنے۔
3
किश्वर-ए-इश्क़ को आबाद न देखा हम ने
हर गली-कूचे में ऊजड़ पड़े थे घर कितने
کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نے
ہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے
شاعر کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی عشق کے گھر کو آباد ہوتے نہیں دیکھا، ہر گلی-کوچے میں کتنے گھر उजाड़ پڑے تھے۔
4
आह निकली है ये किस की हवस सैर-ए-बहार
आते हैं बाग़ में आवारा हुए पर कितने
آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہار
آتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے
آہ نکلی ہے یہ کس کی حوس سَرِ-اے-بہار؟ آتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے؟
5
देखियो पंजा-ए-मिज़्गाँ की टक आतिश-दस्ती
हर सहर ख़ाक में मिलते हैं दर-ए-तर कितने
دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستی
ہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے
دیکھیو پنجہ-ئے-میज़्گاں کی ٹک آتِش-دستی / ہر سحر خاک میں ملتے ہیں درِ تر کتنے
6
कब तलक ये दिल-ए-सद-पारा नज़र में रखिए
उस पर आँखें ही सिए रहते हैं दिलबर कितने
کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے
اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے
کب تک یہ دل کو اپنی نظروں میں رکھنا؟ کیونکہ دلبر، آنکھیں تو ہمیشہ دل میں ہی رہتی ہیں۔
7
'उम्र गुज़री कि नहीं दो आदम से कोई
जिस तरफ़ देखिए 'अर्से में हैं अब ख़र कितने
عمر گزری کہ نہیں دو آدم سے کوئی
جس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے
کیا کسی نے اتنی عمر گزرنے کی بات کی ہے، کیونکہ جہاں بھی دیکھو وہاں اتنے خزانوں ہیں، گویا وہ آدم کے زمانے سے موجود ہیں۔
8
तू है बेचारा गदा 'मीर' तिरा क्या मज़कूर
मिल गए ख़ाक में याँ साहब अफ़सर कितने
تو ہے بیچارہ گدا میرؔ ترا کیا مذکور
مل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے
اے بیچارے گدا 'میر'، تیرا کیا مَذکور، جب خاک میں صاحب افسر کتنے مل گئے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
