غزل
तंग आए हैं दिल उस जी से उठा बैठेंगे
तंग आए हैं दिल उस जी से उठा बैठेंगे
یہ غزل دل کی شدید بے چینی اور بے قراری کے احساس کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے دل کے تنگ آ جانے کی وجہ سے کسی محبوب سے اٹھ کر چلے جانے کا عزم کرتا ہے۔ یہ عشق کی انتہا اور مایوسی کا اظہار ہے، جس میں وہ دوستوں اور شہر کے بندھنوں کو توڑ کر تنہائی میں رہنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तंग आए हैं दिल उस जी से उठा बैठेंगे
भूखों मरते हैं कुछ अब यार भी खा बैठेंगे
میرا دل اس جان سے تنگ آ گیا ہے، میں اٹھ کر چھوڑ دوں گا؛ جو بھوکے مر رہے ہیں، میں اب دوستوں کو بھی کھا جاؤں گا۔
2
अब के बिगड़ेगी अगर उन से तो इस शहर से जा
कसो वीराने में तकिया ही बना बैठेंगे
اگر میری قسمت ان کی وجہ سے بگڑنی ہے، تو میں اس شہر کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا؛ میں بس ویرانے میں ایک تکیہ بچھا کر سو جاؤں گا۔
3
मा'रका गर्म तो टक होने दो ख़ूँ-रेज़ी का
पहले तलवार के नीचे हमीं जा बैठेंगे
میدانِ جنگ کا گرم ہونا اور خونریزی ہونا تو ہونے دو؛ پہلے ہم خود ہی تلوار کے نیچے بیٹھ جائیں گے۔
4
होगा ऐसा भी कोई रोज़ कि मज्लिस से कभू
हम तो एक-आध घड़ी उठ के जुदा बैठेंगे
ایسا دن بھی آئے گا کہ محفل سے کبھی ہم اٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے الگ بیٹھیں گے۔
5
जा न इज़हार-ए-मोहब्बत पे हवसनाकों की
वक़्त के वक़्त ये सब मुँह को छुपा बैठेंगे
جانا اظہارِ محبت پہ حوسناکوں کی، وقت کے وقت یہ سب منہ کو چھپا بیٹھیں گے۔
6
देखें वो ग़ैरत-ए-ख़ुर्शीद कहाँ जाता है
अब सर-ए-राह दम-ए-सुब्ह से आ बैठेंगे
دیکھیں وہ غرورِ خورشید کہاں جاتا ہے، اب سرِ راہ دمِ صبح سے آ بیٹھیں گے۔
7
भीड़ टलती ही नहीं आगे से उस ज़ालिम के
गर्दनें यार किसी रोज़ कटा बैठेंगे
بھیڑ ابھی بھی اس ظالم کے آگے سے نہیں ہٹتی، یار، مگر ان ظالموں کی گردنیں کسی دن کٹ کر گریں گی۔
8
कब तलक गलियों में सौदाई से फिरते रहिए
दिल को उस ज़ुल्फ़-ए-मुसलसल से लगा बैठेंगे
کب تک آپ گلیوں میں سودی سے گھومتے رہیں گے، جب تک میرا دل ان جھولتے ہوئے بالوں سے الجھ نہ جائے۔
9
शोला-अफ़्शाँ अगर ऐसी ही रही आह तो 'मीर'
घर को हम अपने कसो रात जला बैठेंगे
شاعر کہہ رہا ہے کہ اگر یہ آہیں (शोلا-افشان) اسی طرح رہیں گی، تو ہم اپنے گھر کو ساری رات جلا کر راکھ کر دیں گے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
