تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے
بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے
“My heart is fed up with that soul, I shall rise and leave it; Even friends, who are starving, I shall consume them now.”
— میر تقی میر
معنی
میرا دل اس جان سے تنگ آ گیا ہے، میں اٹھ کر چھوڑ دوں گا؛ جو بھوکے مر رہے ہیں، میں اب دوستوں کو بھی کھا جاؤں گا۔
تشریح
یہ شعر دل کی شدید تھکاوٹ اور مایوسی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اگر دل کسی سے تنگ آ جائے تو وہ خود کو سنبھال نہیں پائے گا... اور دکھ یہ ہے کہ بھوک سے مرنا بھی ایک بات ہے، اور دوستوں کے ہاتھوں کاٹ جانا، ایک الگ کرب ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 9Next →
