Sukhan AI
भीड़ टलती ही नहीं आगे से उस ज़ालिम के
गर्दनें यार किसी रोज़ कटा बैठेंगे

The crowd simply does not disperse from the cruel one's way, Friends, the necks of those oppressors will someday be severed.

میر تقی میر
معنی

بھیڑ ابھی بھی اس ظالم کے آگے سے نہیں ہٹتی، یار، مگر ان ظالموں کی گردنیں کسی دن کٹ کر گریں گی۔

تشریح

یہ شعر ایک زالِم کے ظلم کے خلاف ایک شدید نالہ ہے... شاعر کہہ رہے ہیں کہ یہ ہجوم کبھی نہیں چھٹے گا، اور وقت آنے پر ان ظالموں کے سر کاٹنا یقینی ہے۔ یہ ایک انتقام کا وعدہ ہے، جو صبر کی انتہا پر پہنچ کر بولا گیا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.