غزل
कई दिन सुलूक-ए-विदा' का मिरे दरपय-ए-दिल-ए-ज़ार था
कई दिन सुलूक-ए-विदा' का मिरे दरपय-ए-दिल-ए-ज़ार था
یہ غزل جدائی کے درد اور دل پر لگے گہرے زخموں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ اس کا دل کئی روز سے غم، درد اور زخموں کے احساسات سے گزر رہا ہے۔ یہ زندگی کے جذباتی اتار چڑھاؤ، بے چینی اور کھوئے ہوئے عشق کی یادوں کے ساتھ مسلسل جدوجہد کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
कई दिन सुलूक-ए-विदा' का मिरे दरपय-ए-दिल-ए-ज़ार था
कभू दर्द था कभू दाग़ था कभू ज़ख़्म था कभू वार था
کئی دن سلوک وداع کا مرے درپے دل زار تھا
کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
कई दिनों तक मेरे दिल के दरवाज़े पर विदाई के दिखावे का नाटक था। कभी दर्द था, कभी दाग था, कभी ज़ख़्म था, और कभी वार भी था।
2
दम-ए-सुब्ह बज़्म-ए-ख़ुश जहाँ शब-ए-ग़म से कम न थी मेहरबाँ
कि चराग़ था सो तू दूद था जो पतंग था सो ग़ुबार था
دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا
اے محبوب، صبح کی سانس اور خوشی کا ماحول غم کی رات سے کم نہیں تھا، کیونکہ تو چراغ تھا اور میں دودھ تھا؛ تو پتنگ تھا اور میں غبار تھا۔
3
दिल-ए-ख़स्ता-लोहू जो हो गया तो भला हुआ कि कहाँ तलक
कभू सोज़-ए-सीना से दाग़ था कभू दर्द-ओ-ग़म से फ़िगार था
دل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک
کبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا
شاعر کہتا ہے کہ اگر دل جو خستہ تھا، خون بن گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تک۔ کبھی سوزِ صیٰنہ سے داغ تھا، کبھی درد و غم سے فِگار تھا۔
4
दिल-ए-मुज़्तरिब से गुज़र गई शब-ए-वस्ल अपनी ही फ़िक्र में
न दिमाग़ था न फ़राग़ था न शकेब था न क़रार था
دل مضطرب سے گزر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میں
نہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا
دلِ مُضطرب سے گزر گئی شبِ وصل اپنی ہی فکر میں؛ نہ دِماغ تھا نہ فراغ تھا، نہ شکیب تھا، نہ قرار تھا۔
5
जो निगाह की भी पलक उठा तो हमारे दिल से लहू बहा
कि वहीं वो नावक-ए-बे-ख़ता किसू के कलेजे के पार था
جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہا
کہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا
اگر نظر کی پلک بھی اٹھ جائے تو ہمارے دل سے خون بہے گا، کیونکہ وہ بے عیب تیر کسو کے دل کے پار تھا۔
6
ये तुम्हारी इन दिनों दोस्ताँ मिज़ा जिस के ग़म में है ख़ूँ-चकाँ
वही आफ़त-ए-दिल-ए-आशिक़ाँ किसू वक़्त हम से भी यार था
یہ تمہاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاں
وہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا
یہ تمہارے دوست آج کل ایسے ہیں، جن کا مزاج اور غم بہت گہرا ہے۔ وہ وہی آفت ہیں جو عاشقوں کے دل میں ہوتی ہیں، اور کبھی کبھی وہ ہمارے لیے بھی دوست تھے۔
7
नहीं ताज़ा-दिल की शिकस्तगी यही दर्द था यही ख़स्तगी
उसे जब से ज़ौक़-ए-शिकार था उसे ज़ख़्म से सरोकार था
نہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگی
اسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا
یہ درد اور یہ تھکاوٹ تازہ دل کے ٹوٹنے سے نہیں تھی؛ جب اسے شکار کا شوق تھا، تو اس کا خیال صرف زخم پر تھا۔
8
कभू जाएगी जो उधर सबा तो ये कहियो उस से कि बेवफ़ा
मगर एक 'मीर' शिकस्ता-पा तिरे बाग़-ए-ताज़ा में ख़ार था
کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفا
مگر ایک میرؔ شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا
کبھی جائے گی جو اُدھر سبا تو یہ کہیے اُس سے کہ میں بے وفا ہوں، مگر 'میر' تو شکستہ پا تھا، تیرے باغِ تازہ میں کانٹوں کے ساتھ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
