غزل
फ़िक्र है माह के जो शहर-बदर करने की
फ़िक्र है माह के जो शहर-बदर करने की
یہ غزل اس پریشانی کو بیان کرتی ہے جو ایک شہر کو بکھیر دینے والی महفل کے ماحول میں ہے۔ اس میں محبوب کی نظر کی ایک گستاخی کو سزا سمجھا گیا ہے، جو ایک گہرے جذباتی اور ادبی درد کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ محبت اور جدائی کے تجربات کے ذریعے زندگی کی عارضی کیفیت اور یادوں کے بوجھ کو عکاسی کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
फ़िक्र है माह के जो शहर-बदर करने की
है सज़ा तुझ पे ये गुस्ताख़ नज़र करने की
فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
ہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی
اگر آپ کو چاند کے شہر بدر سے متعلق کوئی فکر ہے، تو یہ سزا ہے کہ آپ کو اتنی بے باکی سے دیکھنا پڑے گا۔
2
कह हदीस आने की उस के जो किया शादी मर्ग
नामा-बर क्या चली थी हम को ख़बर करने की
کہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگ
نامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی
اے، وہ جو شادی کر کے مر گئی، اس کی موت کی خبر کیسے مجھے ہوئی؟ کس طرح کی خبر تھی جو تم نے ہمیں بتانے کے لیے بھیجی؟
3
क्या जली जाती है ख़ूबी ही में अपनी ऐ शम्अ'
कह पतंगे के भी कुछ शाम-ओ-सहर करने की
کیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمع
کہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی
کیا جلتی ہے خوبِی ہی میں اپنی اے شمعؔ کہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی
4
अब के बरसात ही के ज़िम्मे था आलम का वबाल
मैं तो खाई थी क़सम चश्म के तर करने की
اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبال
میں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی
اب کے برسات ہی کے ذمہ تھا عالم کا وبل، یعنی اس برسات کا ہی ذمہ دار تھا دنیا کا مصیبت۔ میں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی، یعنی میں نے تو آنکھوں کی پیاس بجھانے کی قسم کھائی تھی۔
5
फूल कुछ लेते न निकले थे दिल-ए-सद-पारा
तर्ज़ सीखी है मिरे टुकड़े जिगर करने की
پھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہ
طرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی
گل کچھ لیتے نہ نکلے تھے دلِ-اے-صد-پارہ، تَرز سیکھی ہے میرے ٹکڑے جگر کرنے کی۔ (مطلب: میرا دل، جو کبھی بغیر کوئی پھول لیے نکلنا نہیں جانتا تھا، اب میرے دل کے ٹکڑے کرنے کا فن سیکھ چکا ہے۔)
6
उन दिनों निकले है आग़ुश्ता ब-ख़ूँ रातों को
धुन है नाले को कसो दिल में असर करने की
ان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کو
دھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی
ان دنوں نکلے ہیں آغوشتا ب-خون راتوں کو، دھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی
7
इश्क़ में तेरे गुज़रती नहीं बिन सर पटके
सूरत इक ये रही है उम्र बसर करने की
عشق میں تیرے گزرتی نہیں بن سر پٹکے
صورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی
تیرے عشق میں، میں بغیر سر پیٹے گزر نہیں پاؤں گا؛ یہ ایک چہرہ ہے جس میں مجھے اپنی زندگی گزارنی ہے۔
8
कारवानी है जहाँ उम्र अज़ीज़ अपनी 'मीर'
रह है दरपेश सदा उस को सफ़र करने की
کاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میرؔ
رہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی
اے میر، وہ زندگی کہاں ہے جو آپ کو پیاری ہے؟ کیونکہ دروازہ ہمیشہ اس کے لیے کھلا ہے کہ وہ سفر کرے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
