غزل

गई छाँव उस तेग़ की सर से जब की

गई छाँव उस तेग़ की सर से जब की
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل عشق اور جدائی کے گہرے جذبات کا اظہار کرتی ہے، جس میں جدائی کے درد کا موازنہ ناقابلِ برداشت دھوپ سے کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کے پیار کے چلے جانے کے بعد محسوس ہونے والے خلا کا بیان کرتا ہے، اور یہ بھی کہتا ہے کہ کسی بھی بات کو منہ سے نکالنا مشکل ہے، جس کے لیے کسی کی ہمدردی اور سمجھ کی ضرورت ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
गई छाँव उस तेग़ की सर से जब की जले धूप में याँ तलक हम कि तब की
گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کی جلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی
جب اُس تلوار کے ماتھے سے سایا چلی گئی، اور دھوپ میں جلتے ہوئے بھی ہم تب تک ایسے ہی ہیں۔
2
पड़ी ख़िर्मन-ए-गुल पे बिजली सी आख़िर मिरे ख़ुश-निगह की निगाह इक ग़ज़ब की
پڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخر مرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی
گُل کے بستر پر بجلی سی آخری / میرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی
3
कोई बात निकले है दुश्वार मुँह से टक इक तो भी तो सुन किसी जाँ-ब-लब की
کوئی بات نکلے ہے دشوار منہ سے ٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بہ لب کی
اگر کوئی بات مشکل منہ سے نکل رہی ہے، تو کم از کم کسی جانِ لب کو اسے سننے دو۔
4
तू शमला जो रखता है ख़र है वगर्ना ज़रूरत है क्या शैख़ दम इक वजब की
تو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہ ضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی
اگر جو مالا رکھتا ہے وہ خر ہے ورنہ ضرورت ہے کیا شیخ دم اک وُجح کی
5
यकायक भी आ सर पे वामाँदगाँ के बहुत देखते हैं तिरी राह कब की
یکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کے بہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی
اچانک سے، سر پر بکھرے ہوئے بالوں کی طرح، میں کب سے تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں؟
6
दिमाग़-ओ-जिगर दिल मुख़ालिफ़ हुए हैं हुई मुत्तफ़िक़ अब इधर राय सब की
دماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیں ہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی
ذہن و جگر دل مخالف ہوئے ہیں، مگر اب تمام کی رائے اسی طرف متفق ہوئی ہے۔
7
तुझे क्यूँके ढूँडूँ कि सोते ही गुज़री तिरी राह में अपने पिए तलब की
تجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گزری تری راہ میں اپنے پیے طلب کی
مجھے تجھے کیوں ڈھونڈوں، کہ نیند میں گزر گئی تیری راہ میں اپنے پیار کی طلب۔
8
दिल अर्श से गुज़रे है ज़ोफ़ में भी ये ज़ोर-आवरी देखो ज़ारी-ए-शब की
وہ دل جو عرش سے گزرا ہے، وہ کفن میں بھی ہے۔ اس شب کی دھارے میں دیکھو کتنا زبردست جوش ہے۔
9
अजब कुछ है गर 'मीर' आवे मयस्सर गुलाबी शराब और ग़ज़ल अपने ढब की
عجب کچھ ہے گر میرؔ آوے میسر گلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی
عجب بات ہے، 'میر'، اگر میرا محبوب میرے حصے کی گلابی شراب اور ایک غزل لے کر آ جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.