غزل

कल 'मीर' ने क्या क्या की मय के लिए बेताबी

कल 'मीर' ने क्या क्या की मय के लिए बेताबी
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل مرزا غالب کے انداز میں، شراب (مے) کی بے چینی اور محبت کی شدید آرزو کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنی بے چینی کی وجہ صرف عشق نہیں، بلکہ ایک گہری اندرونی کشمکش بھی بتاتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کے عشق کی یاد میں دن رات جلتا رہتا ہے، اور اس بے چینی کو ایک ایسی آگ قرار دیتا ہے جسے بجھانا ناممکن ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कल 'मीर' ने क्या क्या की मय के लिए बेताबी आख़िर को गिरो रखा सज्जादा-ए-मेहराबी
کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی آخر کو گرو رکھا سجادۂ محرابی
کل 'میر' نے مے کے لیے کیا کیا بے تابی، آخر کو گِرو رکھا سجدۂ محرابی۔
2
जागा है कहीं वो भी शब मुर्तकिब-ए-मय हो ये बात सुझाती है उन आँखों की बे-ख़्वाबी
جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہو یہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی
کہیں وہ بھی شبِ مستی کا مقرب ہوگا، یہ بات ان آنکھوں کی بےخیالی سے پتہ چلتی ہے۔
3
क्या शहर में गुंजाइश मुझ बे-सर-ओ-पा को हो अब बढ़ गए हैं मेरे अस्बाब-ए-कम-असबाबी
کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہو اب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی
کیا شہر میں کوئی جگہ ہے میرے لیے، جو بے سر اور بے با ہو؟ اب میری صورتحال محض معاملات سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔
4
दिन-रात मिरी छाती जलती है मोहब्बत में क्या और न थी जागा ये आग जो याँ दाबी
دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میں کیا اور نہ تھی جاگا یہ آگ جو یاں دابی
دن رات میری چھاتی محبت میں جلتی ہے؛ اور کیا تھا، یہ آگ جو یہاں دبی تھی۔
5
सो मलक फिरा लेकिन पाई न वफ़ा इक जा जी खा गई है मेरा इस जिंस की नायाबी
سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جا جی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی
اے محبوب، میں بھٹکا لیکن وفا نہیں مل سکی، او پیارے، میرے اس وجود کی نایابی ختم ہو گئی ہے۔
6
ख़ूँ बस्ता न क्यूँ पलकें हर लहज़ा रहीं मेरी जाते नहीं आँखों से लब-ए-यार के उन्नाबी
خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میری جاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی
خون بستا نہ کیوں پلکیں ہر لہجہ رہیں میری، جاتے نہیں آنکھوں سے لب-ے-یار کے عنابی۔
7
जंगल ही हरे तन्हा रोने से नहीं मेरे कोहों की कमर तक भी जा पहुँची है सैराबी
جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرے کوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی
میرے تنہائی نے میرے بالوں کی کمر تک بھی نہیں پہنچا، پھر بھی یہ سیرابی بہت دور تک چلی گئی ہے۔
8
थे माह-विशाँ कल जो उन कोठों पे जल्वे में है ख़ाक से आज उन की हर सहन में महताबी
تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میں ہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی
کل ان کوٹھوں میں جو زندگی کی چمک تھی، آج ان کی ہر سانس میں وہ شان صرف دھول ہے۔
9
कल 'मीर' जो याँ आया तौर इस का बहुत भाया वो ख़ुश्क-लबी तिस पर जामा गले में आबी
کل میرؔ جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایا وہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی
کل جب میں یہاں آیا، تو مجھے اس طرح کا انداز بہت اچھا لگا، لیکن وہ خشک ہونٹوں والی عورت نے اپنے گلے میں ایک لباس ڈال رکھا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.