जंगल ही हरे तन्हा रोने से नहीं मेरे
कोहों की कमर तक भी जा पहुँची है सैराबी
“My loneliness has not reached even the waist of my hair, Yet it has traveled so far, like a wandering dream.”
— میر تقی میر
معنی
میرے تنہائی نے میرے بالوں کی کمر تک بھی نہیں پہنچا، پھر بھی یہ سیرابی بہت دور تک چلی گئی ہے۔
تشریح
یہ شعر تصورِ بے باکی اور سرور کے پھیلاؤ کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہتے ہیں کہ یہ نشہ صرف جنگل کی تنہائی تک محدود نہیں رہا۔ یہ تو کوہوں کی کمر تک پہنچ گیا ہے! ایک بے باک احساس کا اظہار ہے۔
