थे माह-विशाँ कल जो उन कोठों पे जल्वे में
है ख़ाक से आज उन की हर सहन में महताबी
“The brilliance of yesterday's life in those chambers, Today, the splendor in their every breath is but dust.”
— میر تقی میر
معنی
کل ان کوٹھوں میں جو زندگی کی چمک تھی، آج ان کی ہر سانس میں وہ شان صرف دھول ہے۔
تشریح
یہ شعر مِیرؔ تقی میر کی اندرونی خوبصورتی کے تصور پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کل تک چمک صرف شاہانہ ماحول میں تھی، مگر آج وہ نورِ جمال، مٹی سے نکل کر ہر سانس میں بکھر چکا ہے۔
