कल 'मीर' ने क्या क्या की मय के लिए बेताबी
आख़िर को गिरो रखा सज्जादा-ए-मेहराबी
“What mischief 'Mir' did for the sake of wine, oh restlessness, At last, he fell upon the cushion of the niche.”
— میر تقی میر
معنی
کل 'میر' نے مے کے لیے کیا کیا بے تابی، آخر کو گِرو رکھا سجدۂ محرابی۔
تشریح
یہ شعر خواہش اور وقار کے درمیان کے کشمکش کو بیان کرتا ہے۔ میرؔ کہہ رہے ہیں کہ کل مے کی بے چینی میں تو بہت کچھ کیا، مگر آخر کار انہوں نے اپنا وقار اور عزتِ نفس برقرار رکھی۔
1 / 9Next →
