غزل
दिल साफ़ हो तो जल्वा-गह-ए-यार क्यूँ न हो
दिल साफ़ हो तो जल्वा-गह-ए-यार क्यूँ न हो
اگر دل صاف ہو تو محبوب کا جلوہگاہ کیوں نہ ہو۔ یہ غزل بتاتی ہے کہ اگر دل نکھر جائے تو ہر چیز میں، ہر منظر میں، محبوب یا خدا کی جھلک نظر آتی ہے، اور وجود کا ہر گوشہ ایک عبادت گاہ بن جاتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
दिल साफ़ हो तो जल्वा-गह-ए-यार क्यूँ न हो
आईना हो तो क़ाबिल-ए-दीदार क्यूँ न हो
دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہو
آئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو
اگر دل صاف ہو تو یار کی رونق کیوں نہ ہو؟ آئینہ ہو تو دیدار کے قابل کیوں نہ ہو؟
2
'आलम तमाम उस का गिरफ़्तार क्यूँ न हो
वो नाज़-पेशा एक है 'अय्यार क्यूँ न हो
عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہو
وہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو
آلَمِ تَمَام اُس کا گرفتار کیوں نہ ہو، وہ نازپیشہ ایک ہے، اے ایّار کیوں نہ ہو۔
3
मुस्तग़नियाना तो जो करे पहले ही सुलूक
'आशिक़ को फ़िक्र-ए-आक़िबत-कार क्यूँ न हो
مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوک
عاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو
اگر کوئی شخص پہلے ہی مستغنیاانہ ہو جائے، تو عاشق کو انجام کار کی فکر کیوں نہ ہو۔
4
रहमत ग़ज़ब में निसबत-ए-बर्क़-ओ-सहाब है
जिस को शु'ऊर हो तो गुनहगार क्यूँ न हो
رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہے
جس کو شعور ہو تو گنہ گار کیوں نہ ہو
رحمت غضب میں بجلی و سحاب کا نسبت ہے؛ جسے شعور ہو تو گنہگار کیوں نہ ہو۔
5
दुश्मन तो इक तरफ़ कि सबब रश्क का है याँ
दर का शिगाफ़-ओ-रखना-ए-दीवार क्यूँ न हो
دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاں
در کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو
دشمن تو بس حسد کی وجہ ہے، تو کیوں نہ دروازہ توڑ کر دیوار گرائی جائے؟
6
आयात-ए-हक़ हैं सारे ये ज़र्रात-ए-काएनात
इंकार तुझ को होवे सो इक़रार क्यूँ न हो
آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائنات
انکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو
شاعر کہتا ہے کہ یہ سارے ذرات کائنات کے حق کے اِمداد ہیں، تو انکار کرنا کیوں نہ اقرار ہو۔
7
हर-दम की ताज़ा मर्ग-ए-जुदाई से तंग हूँ
होना जो कुछ है आह सो यक-बार क्यूँ न हो
ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوں
ہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو
میں ہر دم کی تازہ جدائی کے درد سے تنگ ہوں؛ جو کچھ حاصل کرنا ہے، وہ بس ایک بار کیوں نہیں ہو جاتا۔
8
मू-ए-सफ़ेद हम को कहे है कि ग़ाफ़िलाँ
अब सुब्ह होने आई है बेदार क्यूँ न हो
موئے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاں
اب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو
سفید چاند نے ہمیں کہا ہے کہ اے غافلان، اب صبح ہو گئی ہے، بیدار کیوں نہیں ہو؟
9
नज़दीक अपने हम ने तो सब कर रखा है सहल
फिर 'मीर' इस में मुर्दन-ए-दुश्वार क्यूँ न हो
نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہل
پھر میرؔ اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو
ہم نے اپنے لیے تو سب کچھ آسان اور قریب کر رکھا ہے، پھر شاعر 'میر' اس میں مشکل برداشت کیوں نہیں کر پاتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
