Sukhan AI
غزل

ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें

ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل محبت میں تنہائی اور مایوسی کے احساسات کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر اپنی محبوبہ کے رویے سے غمگین ہے اور اسے اپنی بے وفائی کا احساس دلاتا ہے۔ اس میں وقت کے ساتھ دل ٹوٹنے اور تنہائی کے درد کو دکھایا گیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें यूँ न करना था पाएमाल हमें
آپ کی چال سے ہمیں خوشی نہیں ملی، ہمیں آپ کی سازشیں برداشت نہیں کرنی تھیں۔
2
हाल क्या पूछ पूछ जाते हो कभू पाते भी हो बहाल हमें
تم بار بار میرے حال پوچھ لیتے ہو، مگر کیا تم اسے واپس بھی پا لیتے ہو؟
3
वो दहाँ वो कमर ही है मक़्सूद और कुछ अब नहीं ख़याल हमें
صرف وہ جگہ اور وہ کمر ہی ہمارے لیے مطلوب ہے، اور اب ہمارے خیال میں کچھ اور نہیں ہے۔
4
इस मह-ए-चारदह की दूरी ने दस ही दिन में क्या हिलाल हमें
اس چودہویں رات کی دوری نے دس ہی دن میں ہمیں کیا بدل دیا ہے۔
5
नज़र आते हैं होते जी के वबाल हल्क़ा हल्क़ा तुम्हारे बाल हमें
زندگی کے وقت کے طنز یا کھیل نظر آتے ہیں، اور تمہارے بال اتنے ہلکے ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے۔
6
तंगी इस जा की नक़ल क्या करिए याँ से वाजिब है इंतिक़ाल हमें
इस ज़िंदगी کی نقل کیا کرنا؟ یہاں سے ہمارا رُخ کرنا ضروری ہے۔
8
मुग़-बचे माल मस्त हम दरवेश कौन करता है मुश्त-माल हमें
شاعر کہتے ہیں کہ ہم مست، بے پرواہ درویش ہیں؛ ہمیں کون ہمارے نشے اور مستی کی فکر کرتا ہے۔
9
कब तक उस तंगना में खींचिए रंज याँ से यारब तू ही निकाल हमें
اشعار کا مطلب ہے کہ وہ پوچھ رہے ہیں کہ تم کب تک ہمیں اس تنگ پنجرے میں غم کھینچتے رہو گے؟ اور کہتے ہیں، 'اے دوست، صرف تم ہی ہمیں نکال سکتے ہو۔'
10
तर्क सब्ज़ान-ए-शहर करिए अब बस बहुत कर चुके निहाल हमें
اب شہر کے منطق پر بحث کرنا، ہم کافی لطف اندوز ہو چکے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें | Sukhan AI