غزل
ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें
ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें
یہ غزل محبت میں تنہائی اور مایوسی کے احساسات کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر اپنی محبوبہ کے رویے سے غمگین ہے اور اسے اپنی بے وفائی کا احساس دلاتا ہے۔ اس میں وقت کے ساتھ دل ٹوٹنے اور تنہائی کے درد کو دکھایا گیا ہے۔
نغمہ سنیں
1
ख़ुश न आई तुम्हारी चाल हमें
यूँ न करना था पाएमाल हमें
خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
آپ کی چال سے ہمیں خوشی نہیں ملی، ہمیں آپ کی سازشیں برداشت نہیں کرنی تھیں۔
2
हाल क्या पूछ पूछ जाते हो
कभू पाते भी हो बहाल हमें
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
تم بار بار میرے حال پوچھ لیتے ہو، مگر کیا تم اسے واپس بھی پا لیتے ہو؟
3
वो दहाँ वो कमर ही है मक़्सूद
और कुछ अब नहीं ख़याल हमें
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
صرف وہ جگہ اور وہ کمر ہی ہمارے لیے مطلوب ہے، اور اب ہمارے خیال میں کچھ اور نہیں ہے۔
4
इस मह-ए-चारदह की दूरी ने
दस ही दिन में क्या हिलाल हमें
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
اس چودہویں رات کی دوری نے دس ہی دن میں ہمیں کیا بدل دیا ہے۔
5
नज़र आते हैं होते जी के वबाल
हल्क़ा हल्क़ा तुम्हारे बाल हमें
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمہارے بال ہمیں
زندگی کے وقت کے طنز یا کھیل نظر آتے ہیں، اور تمہارے بال اتنے ہلکے ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے۔
6
तंगी इस जा की नक़ल क्या करिए
याँ से वाजिब है इंतिक़ाल हमें
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
इस ज़िंदगी کی نقل کیا کرنا؟ یہاں سے ہمارا رُخ کرنا ضروری ہے۔
7
सिर्फ़ लिल्लाह ख़म के ख़म करते
न क्या चर्ख़ ने कलाल हमें
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
8
मुग़-बचे माल मस्त हम दरवेश
कौन करता है मुश्त-माल हमें
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
شاعر کہتے ہیں کہ ہم مست، بے پرواہ درویش ہیں؛ ہمیں کون ہمارے نشے اور مستی کی فکر کرتا ہے۔
9
कब तक उस तंगना में खींचिए रंज
याँ से यारब तू ही निकाल हमें
کب تک اس تنگنا میں کھینچیے رنج
یاں سے یا رب تو ہی نکال ہمیں
اشعار کا مطلب ہے کہ وہ پوچھ رہے ہیں کہ تم کب تک ہمیں اس تنگ پنجرے میں غم کھینچتے رہو گے؟ اور کہتے ہیں، 'اے دوست، صرف تم ہی ہمیں نکال سکتے ہو۔'
10
तर्क सब्ज़ान-ए-शहर करिए अब
बस बहुत कर चुके निहाल हमें
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
اب شہر کے منطق پر بحث کرنا، ہم کافی لطف اندوز ہو چکے ہیں۔
11
वज्ह क्या है कि 'मीर' मुँह पे तिरे
नज़र आता है कुछ मलाल हमें
وجہ کیا ہے کہ میرؔ منہ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ 'میر'، منہ پہ تیرے نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
