غزل
यूँ ही हैरान-ओ-ख़फ़ा जों ग़ुंचा-ए-तस्वीर हों
यूँ ही हैरान-ओ-ख़फ़ा जों ग़ुंचा-ए-तस्वीर हों
یہ غزل ایک ایسے دل کی بات ہے جو بے وجہ حیران اور خفا ہے، اور جس کو عمر گزرنے کے بعد بھی دلگیر ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ یہ ایک بے چین روح کی کہانی ہے جو اپنی جذبات اور وجود کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اور خود کو دوسروں کے لیے 'ضروری' یا 'قابل' ثابت کرنے کی کوشش میں جدوجہد کر رہی ہے۔
نغمہ سنیں
1
यूँ ही हैरान-ओ-ख़फ़ा जों ग़ुंचा-ए-तस्वीर हों
उम्र गुज़री पर न जाना मैं कि क्यूँ दिल-गीर हों
یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
عمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوں
ये तस्वीर की कलियाँ यूँ ही हैरान और ख़फ़ा क्यों करती हैं? मुझे नहीं पता कि ज़िंदगी गुज़र जाने पर भी मेरा दिल इन्हें क्यों चाहता है।
2
इतनी बातें मत बना मुझ शेफ़ते से नासेहा
पंद के लाएक़ नहीं मैं क़ाबिल-ए-ज़ंजीर हों
اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا
پند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں
شاعرم سے اتنی باتیں نہ کرنا، ناصیحا؛ میں زنجیر کے لائق نہیں ہوں اور نہ ہی آپ کے نصیحتوں کے قابل ہوں۔
3
सुर्ख़ रहती हैं मिरी आँखें लहू रोने से शैख़
मय अगर साबित हो मुझ पर वाजिब अल-ताज़ीर हूँ
سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ
مے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں
میری آنکھیں رونے سے سرخ رہتی ہیں، اے شیخ؛ اگر مجھ پر ثابت ہو تو میں سزا کے لائق ہوں۔
4
ने फ़लक पर राह मुझ को ने ज़मीं पर रौ मुझे
ऐसे किस महरूम का में शोर-ए-बे-तासीर हूँ
نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھے
ایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں
نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمین پر رو مجھے۔ ایسے کس محروم کا میں شورِ بے تاثیر ہوں۔ (معنی: میرے لیے آسمان پر راستہ اور زمین پر روشنی ہے۔ میں کس ایسے محروم کا بے اثر شور ہوں۔)
5
जों कमाँ गरचे ख़मीदा हूँ पे छूटा और वहीं
उस के कूचे की तरफ़ चलने को यारो तीर हूँ
جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں
اس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں
اگر میں ایک تعریف کرنے والا ہوں جو اپنا گھر چھوڑ چکا ہے، اور اب میں اپنے دوستوں کے لیے اسی کے محلے کی طرف چلنے والا تیر ہوں۔
6
जो मिरे हिस्से में आवे तेग़-ए-जमधर सैल-ओ-कार्द
ये फ़ुज़ूली है कि मैं ही कुश्ता-ए-शमशीर हूँ
جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کارد
یہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ شمشیر ہوں
جو مری حصے میں آوے تگ़-اے-جمدر سیل و کارد، یہ فضولی ہے کہ میں ہی کُشتا-ए-شمشیر ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر میرے حصے میں جمدر پہاڑ اور الائچی کا زہر آ جائے، تو یہ بے ہودہ ہے کہ میں خود تلوار کا زخم ہوں۔
7
खोल कर दीवान मेरा देख क़ुदरत मुद्दई'
गरचे हूँ मैं नौजवाँ पर शाइ'रों का पीर हूँ
کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی
گرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں
خونج میرا دیوان دیکھ اے قدرت، گرچہ میں نوجوان ہوں پر شعراء کا پیار ہوں۔
8
यूँ सआ'दत एक जमधर मुझ को भी गुज़ारिए
मुंसिफ़ी कीजे तो मैं तो महज़ बे-तक़सीर हूँ
یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے
منصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں
اے سعادت، ایک جمڈر مجھ کو بھی گزاریے؛ منصفی کیجے تو میں تو محض بے تقیّر ہوں۔
9
इस क़दर बे-नंग ख़बतों को नसीहत शैख़-जी
बाज़ आओ वर्ना अपने नाम को मैं 'मीर' हूँ
اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جی
باز آؤ ورنہ اپنے نام کو میں میرؔ ہوں
اس قدر بے ننگ خوبتوں کو نصیحت، شیخ جی، یا تو واپس آؤ ورنہ اپنے نام کو میں 'میر' ہوں
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
