غزل
ख़ूबी का उस की बस-कि तलबगार हो गया
ख़ूबी का उस की बस-कि तलबगार हो गया
یہ غزل کسی کی خوبصورتی یا خوبی کی اتنی شدید چاہت کا بیان ہے کہ دل اس کے اس کشش میں مکمل طور پر کھو گیا ہے۔ یہ عشق میں ایک ایسی حالت کی عکاسی کرتی ہے جہاں دل کسی ایک خیال یا نظارے پر مسحور ہو کر بیمار ہو گیا ہے۔ غزل میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح عشق کے اثر نے عاشق کو اس کی معمول کی حالت سے دور کر کے ایک بے خود اور بے بس کیفیت میں لا دیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़ूबी का उस की बस-कि तलबगार हो गया
गुल बाग़ में गले का मिरे हार हो गया
وہ اس کی خوبی کا بس-کہ طلبگار ہو گیا ہے، اور گل باغ میں میرا ہار کھو گیا ہے۔
2
किस को नहीं है शौक़ तिरा पर न इस क़दर
मैं तो उसी ख़याल में बीमार हो गया
کس کو نہیں ہے شوق تیرا پر نہ اِس قدر
میں تو اُسی خیال میں بیمار ہو گیا
3
मैं नौ-दमीदा बाल चमन-ज़ाद-ए-तैर था
पर घर से उठ चला सो गिरफ़्तार हो गया
میں نو دمیڑا بال چمن زادِ طیر تھا، مگر گھر سے اٹھ کر میں گرفتار ہو گیا۔
4
ठहरा गया न हो के हरीफ़ उस की चश्म का
सीने को तोड़ तीर-ए-निगह पार हो गया
وہ تیر جو اس کی آنکھوں سے نکلا، وہ رکا نہیں اور سینے کو چیر کر نگاہ کے تیر سے بھی آگے نکل گیا۔
5
है उस के हर्फ़ ज़ेर-ए-लबी का सभों में ज़िक्र
क्या बात थी कि जिस का ये बिस्तार हो गया
اس کے حرف زِیرِ لب کی سبوں میں ذکر ہے؛ کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستر ہو گیا؟
6
तो वो मताअ' है कि पड़ी जिस की तुझ पे आँख
वो जी को बेच कर भी ख़रीदार हो गया
یہ خیال ہے کہ جس آنکھ نے تم پر نظر ڈالی ہے، وہ اپنی جان بیچ کر بھی خریدار ہو گئی ہے۔
7
क्या कहिए आह-ए-इश्क़ में ख़ूबी नसीब की
दिलदार अपना था सो दिल-आज़ार हो गया
کیا کہوں کہ اس عشق کی آہ میں کیسی خوبی ہے، کہ دلدار کا اپنا ہی دل-آزار بن گیا۔
8
आठों पहर लगा ही फिरे है तुम्हारे साथ
कुछ इन दिनों मैं ग़ैर बहुत यार हो गया
اس کا لفظی مطلب ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہر وقت گھومتا رہا ہوں، اور ان دنوں میں میں کئی دوستوں کے لیے ایک اجنبی ہو گیا ہوں۔
9
कब रो है उस से बात के करने का मुझ को 'मीर'
ना-कर्दा जुर्म में तू गुनहगार हो गया
میر کہتے ہیں کہ اب میں اس سے بات کیسے کروں جس نے رویا ہے۔ تو نے بغیر کسی جرم کے گناہ کر دیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
