ठहरा गया न हो के हरीफ़ उस की चश्म का
सीने को तोड़ तीर-ए-निगह पार हो गया
“It is not possible that the arrow from her eyes remains still, It has crossed the chest and passed beyond the arrow of the gaze.”
— میر تقی میر
معنی
وہ تیر جو اس کی آنکھوں سے نکلا، وہ رکا نہیں اور سینے کو چیر کر نگاہ کے تیر سے بھی آگے نکل گیا۔
تشریح
یہ شعر محبوب کی نگاہِ یار کے شدید جادو کو بیان کرتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کا نشہ کبھی رکا ہی نہیں... اور صرف ایک نظر کا تیر ہی سینے کو چیر کر گزر گیا۔
