Sukhan AI
غزل

ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में

ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل خود پر قابو رکھنے اور جذبات کو دبا دینے کے بارے میں ہے۔ یہ مشورہ دیتی ہے کہ کسی کی چاہت یا حسرت کو کھلے عام ظاہر نہ کیا جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے درد اور تکلیف مزید بڑھ جائے گی۔ شاعر کہتا ہے کہ دل کی پریشانی کا تجربہ کرنے سے پورے جسم میں آگ لگ جاتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में बंधी मुट्ठी चला जा इस चमन में
زبان کو خاموش رکھ اور اپنے دل میں جلن کو دبا کر، یہ بند مٹھی لے کر اس باغ میں چل جا۔
2
खोल यार मेरा गोर में मुँह कि हसरत है मिरी जागा कफ़न में
اے دوست، میرا چہرہ اپنی آنکھوں میں نہ دیکھ، کیونکہ میری آرزو میرے کفن میں ہے۔
3
रखा कर हाथ दिल पर आह करते नहीं रहता चराग़ ऐसी पवन में
دل پر ہاتھ رکھ کر آہ بھرتے ہوئے، ایک چراغ ایسی ہوا میں نہیں رہ سکتا۔
4
जले दिल की मुसीबत अपने सुन कर लगी है आग सारे तन बदन में
اپنے جلے دل کی مصیبت سن کر، سارے تن بدن میں آگ لگ گئی।
5
तुझ बिन होश में हम आए साक़ी मुसाफ़िर ही रहे अक्सर वतन में
اے ساقی، تیرے بغیر تو ہم ہوش میں آ گئے، مگر مسافر اکثر اپنے وطن میں ہی رہ گیا۔
6
ख़िरद-मंदी हुई ज़ंजीर वर्ना गुज़रती ख़ूब थी दीवाना-पन में
خرد-مندی ہوئی زنجیر ورنہ، گزرتی خوب تھی دیوانہ پن میں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ زنجیر مدھم پڑ گئی، ورنہ جو دیوانہ پن گزر رہا تھا وہ بہت خوبصورت تھا۔
7
कहाँ के शम-ओ-परवाने गए मर बहुत आतश-बजाँ थे इस चमन में
کَہاں کے شَم و پروانے گئے مر، بہت آتش بجاں تھے اِس چمن میں۔ (مطلب: یہ باغ کبھی بہت روشن اور پر رونق تھا، تو روشنی اور جوش و خروش کے ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟)
8
कहाँ आजिज़-सुख़न क़ादिर-सुख़न हूँ हमें है शुबह यारों के सुख़न में
میں کہاں کا وہ شاعر ہوں جو عاجز-سخن اور قادِر-سخن دونوں ہوں۔ ہمیں تو دوستوں کی باتوں میں ہی شبہ کا لطف آتا ہے۔
9
गुदाज़ इश्क़ में भी गया 'मीर' यही धोका सा है अब पैरहन में
گداز عشق میں تو میرا بھی گم ہو گیا، اے میر؛ یہی دھوکا اب لباس میں ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में | Sukhan AI