غزل
ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में
ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में
یہ غزل خود پر قابو رکھنے اور جذبات کو دبا دینے کے بارے میں ہے۔ یہ مشورہ دیتی ہے کہ کسی کی چاہت یا حسرت کو کھلے عام ظاہر نہ کیا جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے درد اور تکلیف مزید بڑھ جائے گی۔ شاعر کہتا ہے کہ دل کی پریشانی کا تجربہ کرنے سے پورے جسم میں آگ لگ جاتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
ज़बाँ रख ग़ुंचा साँ अपने दहन में
बंधी मुट्ठी चला जा इस चमन में
زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں
بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں
زبان کو خاموش رکھ اور اپنے دل میں جلن کو دبا کر، یہ بند مٹھی لے کر اس باغ میں چل جا۔
2
न खोल ऐ यार मेरा गोर में मुँह
कि हसरत है मिरी जागा कफ़न में
نہ کھول اے یار میرا گور میں منہ
کہ حسرت ہے مری جاگا کفن میں
اے دوست، میرا چہرہ اپنی آنکھوں میں نہ دیکھ، کیونکہ میری آرزو میرے کفن میں ہے۔
3
रखा कर हाथ दिल पर आह करते
नहीं रहता चराग़ ऐसी पवन में
رکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتے
نہیں رہتا چراغ ایسی پون میں
دل پر ہاتھ رکھ کر آہ بھرتے ہوئے، ایک چراغ ایسی ہوا میں نہیں رہ سکتا۔
4
जले दिल की मुसीबत अपने सुन कर
लगी है आग सारे तन बदन में
جلے دل کی مصیبت اپنے سن کر
لگی ہے آگ سارے تن بدن میں
اپنے جلے دل کی مصیبت سن کر، سارے تن بدن میں آگ لگ گئی।
5
न तुझ बिन होश में हम आए साक़ी
मुसाफ़िर ही रहे अक्सर वतन में
نہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقی
مسافر ہی رہے اکثر وطن میں
اے ساقی، تیرے بغیر تو ہم ہوش میں آ گئے، مگر مسافر اکثر اپنے وطن میں ہی رہ گیا۔
6
ख़िरद-मंदी हुई ज़ंजीर वर्ना
गुज़रती ख़ूब थी दीवाना-पन में
خرد مندی ہوئی زنجیر ورنہ
گزرتی خوب تھی دیوانہ پن میں
خرد-مندی ہوئی زنجیر ورنہ، گزرتی خوب تھی دیوانہ پن میں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ زنجیر مدھم پڑ گئی، ورنہ جو دیوانہ پن گزر رہا تھا وہ بہت خوبصورت تھا۔
7
कहाँ के शम-ओ-परवाने गए मर
बहुत आतश-बजाँ थे इस चमन में
کہاں کے شمع و پروانے گئے مر
بہت آتش بجاں تھے اس چمن میں
کَہاں کے شَم و پروانے گئے مر، بہت آتش بجاں تھے اِس چمن میں۔ (مطلب: یہ باغ کبھی بہت روشن اور پر رونق تھا، تو روشنی اور جوش و خروش کے ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟)
8
कहाँ आजिज़-सुख़न क़ादिर-सुख़न हूँ
हमें है शुबह यारों के सुख़न में
کہاں عاجز سخن قادر سخن ہوں
ہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں
میں کہاں کا وہ شاعر ہوں جو عاجز-سخن اور قادِر-سخن دونوں ہوں۔ ہمیں تو دوستوں کی باتوں میں ہی شبہ کا لطف آتا ہے۔
9
गुदाज़ इश्क़ में ब भी गया 'मीर'
यही धोका सा है अब पैरहन में
گداز عشق میں بہ بھی گیا میرؔ
یہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں
گداز عشق میں تو میرا بھی گم ہو گیا، اے میر؛ یہی دھوکا اب لباس میں ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
