غزل
उस के कूचे से जो उठ अहल-ए-वफ़ा जाते हैं
उस के कूचे से जो उठ अहल-ए-वफ़ा जाते हैं
یہ غزل بتاتی ہے کہ سچے وفاداروں کے چوک سے جو اٹھتے ہیں، وہ نظروں کا کام کرتے ہوئے اور ساتھ-ساتھ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مسلسل روتے رہے تو دل کی آگ بجھ نہیں سکے گی، بلکہ ایک دو آنسو مزید آگ لگا دیں گے۔ یہ غزل ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جو محفل میں موجود ہیں اور ہر حال کی تفصیلات سناتے ہیں۔ شاعر یہ بھی کہتے ہیں کہ اب تو ہم اپنے حالِ دل دکھا دیتے ہیں، کیونکہ طاقتِ پا آ چکی ہے۔
نغمہ سنیں
1
उस के कूचे से जो उठ अहल-ए-वफ़ा जाते हैं
ता-नज़र काम करे रू-ब-क़फ़ा जाते हैं
اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں
تا نظر کام کرے رو بقفا جاتے ہیں
جس کے گنچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں، تا نظر کام کرے رو ب قفا جاتے ہیں۔
2
मुत्तसिल रोते ही रहिए तो बुझे आतिश-ए-दिल
एक दो आँसू तो और आग लगा जाते हैं
متصل روتے ہی رہیے تو بجھے آتش دل
ایک دو آنسو تو اور آگ لگا جاتے ہیں
اگر آپ مسلسل روتے رہیں گے تو دل کی آگ بجھ جائے گی؛ مگر ایک دو آنسو اسے پھر سے آگ لگا دیں گے۔
3
वक़्त-ए-ख़ुश उन का जो हम-बज़्म हैं तेरे हम तो
दर-ओ-दीवार को अहवाल सुना जाते हैं
وقت خوش ان کا جو ہم بزم ہیں تیرے ہم تو
در و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں
وقتِ خوش اُن کا جو ہم-بزم ہیں تیرے ہم تو در و دیوار کو احوال سنا جاتے ہیں
4
जाएगी ताक़त-ए-पा आह तू करीएगा क्या
अब तो हम हाल कभू तुम को दिखा जाते हैं
جائے گی طاقت پا آہ تو کریے گا کیا
اب تو ہم حال کبھو تم کو دکھا جاتے ہیں
جا جائے گی طاقتِ پا آہ تُو کریے گا کیا، اب تو ہم حال کبُو تم کو دکھا جاتے ہیں۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ جب آپ کے پاؤں کی طاقت ختم ہو جائے گی تو آپ کیا کریں گے؟ اب تو ہم آپ کو دل کی حالت دکھا دیتے ہیں۔
5
एक बीमार-ए-जुदाई हूँ मैं आफी तिस पर
पूछने वाले जुदा जान को खा जाते हैं
ایک بیمار جدائی ہوں میں آپھی تس پر
پوچھنے والے جدا جان کو کھا جاتے ہیں
میں جدائی کا مریض ہوں، اور پوچھنے والے ہی بچھڑے ہوئے جان کو کھا جاتے ہیں۔
6
ग़ैर की तेग़-ए-ज़बाँ से तिरी मज्लिस में तो हम
आ के रोज़ एक नया ज़ख़्म उठा जाते हैं
غیر کی تیغ زباں سے تری مجلس میں تو ہم
آ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں
گَر کی تیغِ زباں سے تیری مجلس میں تو ہم آ کے روز ایک نیا زخم اٹھا جاتے ہیں۔
7
अर्ज़-ए-वहशत न दिया कर तो बगूले इतनी
अपनी वादी पे कभू यार भी आ जाते हैं
عرض وحشت نہ دیا کر تو بگولے اتنی
اپنی وادی پہ کبھو یار بھی آ جاتے ہیں
اگر تم غم کا پتہ نہیں بتائیں گے، تو میرے پیارے، کبھی کبھی دوست بھی تمہارے کنارے آ جاتے ہیں۔
8
'मीर' साहब भी तिरे कूचे में शब आते हैं लेक
जैसे दरयूज़ा-गरी करने गदा जाते हैं
میرؔ صاحب بھی ترے کوچے میں شب آتے ہیں لیک
جیسے دریوزہ گری کرنے گدا جاتے ہیں
میر صاحب بھی تیرے کوچے میں شب آتے ہیں، جیسے درعیجا-گری کرنے گدا جاتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
