Sukhan AI
غزل

मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ

मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل دل کی بے قراریوں اور جذباتی اضطراب کی شہرت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے احساسات اور نظروں کی گہرائی کو پیش کرتا ہے، جو کسی انجانے درد یا تجربے کی کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ محبت کے پیچیدہ اور شدید جذبات کا ایک جذباتی منظر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ जाती हैं ला-मकाँ को दिल-ए-शब की ज़ारियाँ
میرے دل کی بے قراریاں مشہور ہیں، جو لا-مکان کو شب کے دل کی زاریوں کی طرح جاتی ہیں۔
3
सौ बार हम ने गुल के कहे पर चमन के बीच भर दी हैं आब-ए-चश्म से रातों को क्यारियाँ
ہم نے سو بار گل کے بارے میں بات کی ہے، لیکن باغ کے بیچوں بیچ، راتوں کو چشمے کے پانی سے کیاڑیاں بنانے کا کیا فائدہ؟
5
तुर्बत से 'आशिक़ों के न उठा कभू ग़ुबार जी से गए वले न गईं राज़-दारियाँ
عاشقوں کی قبرت سے کبھی غبار نہیں اٹھا، اور جو لوگ زندگی سے چلے گئے، انہوں نے کوئی رازداریاں نہیں چھوڑی۔
7
पढ़ते फिरेंगे गलियों में इन रेख़्तों को लोग मुद्दत रहेंगी याद ये बातें हमारियाँ
لوگ ان گلیوں میں ہمارے یہ نثریے پڑھتے پھریں گے، اور یہ باتیں ہماری مدّت تک یاد رہیں گی۔
10
जाओगे भूल 'अह्द को फ़रहाद-ओ-क़ैस के गर पहुँचीं हम शिकस्ता-दिलों की भी बारियाँ
جاؤگے بھول 'عہد کو فرہاد و قیس کے، گر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں۔ (مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس پہنچیں گے، تو تم فرہاد اور قیس کے عہد کو بھی بھول جاؤ گے۔)
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ | Sukhan AI