غزل
मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ
मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ
یہ غزل دل کی بے قراریوں اور جذباتی اضطراب کی شہرت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے احساسات اور نظروں کی گہرائی کو پیش کرتا ہے، جو کسی انجانے درد یا تجربے کی کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ محبت کے پیچیدہ اور شدید جذبات کا ایک جذباتی منظر ہے۔
نغمہ سنیں
1
मशहूर हैं दिलों की मिरे बे-क़रारियाँ
जाती हैं ला-मकाँ को दिल-ए-शब की ज़ारियाँ
مشہور ہیں دلوں کی مرے بے قراریاں
جاتی ہیں لا مکاں کو دل شب کی زاریاں
میرے دل کی بے قراریاں مشہور ہیں، جو لا-مکان کو شب کے دل کی زاریوں کی طرح جاتی ہیں۔
2
चेहरे पे जैसे ज़ख़्म है नाख़ून का ख़राश
अब दीदनी हुई हैं मिरी दस्त-कारियाँ
چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخون کا خراش
اب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں
چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا خراش، اب دیدنی ہوئی ہیں میری دستکاریاں۔
3
सौ बार हम ने गुल के कहे पर चमन के बीच
भर दी हैं आब-ए-चश्म से रातों को क्यारियाँ
سو بار ہم نے گل کے کہے پر چمن کے بیچ
بھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں
ہم نے سو بار گل کے بارے میں بات کی ہے، لیکن باغ کے بیچوں بیچ، راتوں کو چشمے کے پانی سے کیاڑیاں بنانے کا کیا فائدہ؟
4
कुश्ते की उस के ख़ाक भरी जिस्म-ए-ज़ार पर
ख़ाली नहीं हैं लुत्फ़ से लोहू की धारियाँ
کشتے کی اس کے خاک بھری جسم زار پر
خالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں
کُشتی کے اُس کے خاک بھرے جسمِ زار پر، خون کی دھاریاں لطف سے خالی نہیں ہیں۔
5
तुर्बत से 'आशिक़ों के न उठा कभू ग़ुबार
जी से गए वले न गईं राज़-दारियाँ
تربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبار
جی سے گئے ولے نہ گئیں راز داریاں
عاشقوں کی قبرت سے کبھی غبار نہیں اٹھا، اور جو لوگ زندگی سے چلے گئے، انہوں نے کوئی رازداریاں نہیں چھوڑی۔
6
अब किस किस अपनी ख़्वाहिश-ए-मुर्दा को रोइए
थीं हम को इस से सैंकड़ों उम्मीदवारियाँ
اب کس کس اپنی خواہش مردہ کو روئیے
تھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں
اب کس کس اپنی خواہشِ مردہ کو روئیے، تھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں۔
7
पढ़ते फिरेंगे गलियों में इन रेख़्तों को लोग
मुद्दत रहेंगी याद ये बातें हमारियाँ
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
لوگ ان گلیوں میں ہمارے یہ نثریے پڑھتے پھریں گے، اور یہ باتیں ہماری مدّت تک یاد رہیں گی۔
8
क्या जानते थे ऐसे दिन आ जाएँगे शिताब
रोते गुज़रतियाँ हैं हमें रातें सारियाँ
کیا جانتے تھے ایسے دن آ جائیں گے شتاب
روتے گزرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں
شاعر کو نہیں معلوم تھا کہ ایسے دن آ جائیں گے، جب راتیں روتے ہوئے گزرتی ہیں۔
9
गुल ने हज़ार रंग-ए-सुख़न सर किया वले
दिल से गईं न बातें तिरी प्यारी प्यारियाँ
گل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولے
دل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں
گل نے ہزار رنگ-ِ سخن سر کیا ولے۔ دل سے گئیں نہ باتیں تیری پیاری پیاریاں۔
10
जाओगे भूल 'अह्द को फ़रहाद-ओ-क़ैस के
गर पहुँचीं हम शिकस्ता-दिलों की भी बारियाँ
جاؤ گے بھول عہد کو فرہاد و قیس کے
گر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں
جاؤگے بھول 'عہد کو فرہاد و قیس کے، گر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں۔ (مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس پہنچیں گے، تو تم فرہاد اور قیس کے عہد کو بھی بھول جاؤ گے۔)
11
बच जाता एक रात जो कट जाती और 'मीर'
काटीं थीं कोहकन ने बहुत रातें भारियाँ
بچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میرؔ
کاٹیں تھیں کوہ کن نے بہت راتیں بھاریاں
کاش ایک رات گزر جاتی، اے میر، اور کوہکن نے بہت بھاری راتیں گزارتی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
