सौ बार हम ने गुल के कहे पर चमन के बीच
भर दी हैं आब-ए-चश्म से रातों को क्यारियाँ
“Though we spoke a hundred times of the garden's bloom, amidst the garden's heart, what little trenches have been made with the water of the spring through the nights?”
— میر تقی میر
معنی
ہم نے سو بار گل کے بارے میں بات کی ہے، لیکن باغ کے بیچوں بیچ، راتوں کو چشمے کے پانی سے کیاڑیاں بنانے کا کیا فائدہ؟
تشریح
یہ شعر مسلسل اور گہرے غم کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سو بار.... بس گلوں کی باتوں پر.... اپنی راتوں کو آنسوؤں سے بھر دیا ہے۔ یہ درد کسی ایک واقعے کا نہیں، بلکہ ایک دائمی، بار بار دہرائے جانے والے دکھ کا اظہار ہے۔
