غزل

मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता

मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

اس غزل میں شاعر یہ جذبہ بیان کر رہے ہیں کہ جیسے گل کے بغیر ہر چیز ادھوری ہے، اسی طرح محبوب کے بغیر زندگی میں ایک عجیب خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ شاعر اپنی شدید جذبات اور زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے نفس کو قابو نہ کیا ہوتا، تو شاید ان کی زندگی یا اردگرد کا ماحول بھی جل جاتا۔ یہ غزل خود پر قابو، محبت کے شدید درد اور زندگی کے عارضی رنگوں پر ایک غور و فکر ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता निकला ही न जी वर्ना काँटा सा निकल जाता
مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
اگر باغ، پھول کے بغیر رہ جائے، تو یہ سب خراب ہو جائے گا۔ ورنہ تو یہ کانٹے کی طرح نکل جاتا۔
2
पैदा है कि पिन्हाँ थी आतिश-नफ़्सी मेरी मैं ज़ब्त न करता तो सब शहर ये जल जाता
پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا
میری یہ نفس (روح/جذبہ) پیدا ہوئی ہے یا پہلے سے تھی، اگر میں اسے روکتا تو یہ پورا شہر جل جاتا۔
3
मैं गिर्या-ए-ख़ूनीं को रोके ही रहा वर्ना इक दम में ज़माने का याँ रंग बदल जाता
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
اگر میں گریہ-ए-خونی کو نہ روکتا، تو زمانے کے رنگ ایک دم بدل جاتے۔
4
बिन पूछे करम से वो जो बख़्श न देता तो पुर्सिश में हमारी ही दिन हश्र का ढल जाता
بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
اگر وہ بغیر مانگے فضل سے عطا نہ کرتا تو ہماری ہی فریاد میں زندگی کا انجام ہو جاتا۔
5
इस्तादा जहाँ में था मैदान-ए-मोहब्बत में वाँ रुस्तम अगर आता तो देख के टल जाता
استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا
استادہ جہاں میں تھا میدانِ محبت میں، وાં رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ جہاں محبت کا میدان تھا اور استاد موجود تھے، تو وہاں رستم جیسے جنگجو بھی دیکھ کر دور ہو جاتے۔
6
वो सैर का वादी के माइल न हुआ वर्ना आँखों को ग़ज़ालों की पाँव तले मल जाता
وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ آنکھوں کو غزالوں کی پاؤں تلے مل جاتا
وہ سیر کا وادی کے میل نہ ہوا ورنہ، آنکھوں کو غزلوں کی پاؤں تلے مل جاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر یہ راستہ سیرگاہ سے میل دور نہ ہوتا، تو میری آنکھیں غزلوں کے قدموں تلے کچلی جاتیں۔
7
बे-ताब-ओ-तवाँ यूँ मैं काहे को तलफ़ होता याक़ूती तिरे लब की मिलती तो सँभल जाता
بے تاب و تواں یوں میں کاہے کو تلف ہوتا یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا
اے بےتاب و تواں، یوں میں کاہے کو تلطف ہوتا؟ یاقوتی تیرے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا۔
8
उस सीम-बदन को थी कब ताब-ए-ताब इतनी वो चाँदनी में शब की होता तो पिघल जाता
اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا
اس نفاست کے جسم میں کبھی اتنی چمک نہیں تھی، اگر یہ چاندنی رات میں ہوتا تو پگھل جاتا۔
9
मारा गया तब गुज़रा बोसे से तिरे लब के क्या 'मीर' भी लड़का था बातों में बहल जाता
مارا گیا تب گزرا بوسے سے ترے لب کے کیا میرؔ بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا
جب تم اپنے ہونٹوں سے گزرے، اے بو سے، میر بھی تمہاری باتوں میں بہل گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता | Sukhan AI