غزل
मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता
मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता
اس غزل میں شاعر یہ جذبہ بیان کر رہے ہیں کہ جیسے گل کے بغیر ہر چیز ادھوری ہے، اسی طرح محبوب کے بغیر زندگی میں ایک عجیب خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ شاعر اپنی شدید جذبات اور زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے نفس کو قابو نہ کیا ہوتا، تو شاید ان کی زندگی یا اردگرد کا ماحول بھی جل جاتا۔ یہ غزل خود پر قابو، محبت کے شدید درد اور زندگی کے عارضی رنگوں پر ایک غور و فکر ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
मर रहते जो गुल बिन तो सारा ये ख़लल जाता
निकला ही न जी वर्ना काँटा सा निकल जाता
اگر باغ، پھول کے بغیر رہ جائے، تو یہ سب خراب ہو جائے گا۔ ورنہ تو یہ کانٹے کی طرح نکل جاتا۔
2
पैदा है कि पिन्हाँ थी आतिश-नफ़्सी मेरी
मैं ज़ब्त न करता तो सब शहर ये जल जाता
میری یہ نفس (روح/جذبہ) پیدا ہوئی ہے یا پہلے سے تھی، اگر میں اسے روکتا تو یہ پورا شہر جل جاتا۔
3
मैं गिर्या-ए-ख़ूनीं को रोके ही रहा वर्ना
इक दम में ज़माने का याँ रंग बदल जाता
اگر میں گریہ-ए-خونی کو نہ روکتا، تو زمانے کے رنگ ایک دم بدل جاتے۔
4
बिन पूछे करम से वो जो बख़्श न देता तो
पुर्सिश में हमारी ही दिन हश्र का ढल जाता
اگر وہ بغیر مانگے فضل سے عطا نہ کرتا تو ہماری ہی فریاد میں زندگی کا انجام ہو جاتا۔
5
इस्तादा जहाँ में था मैदान-ए-मोहब्बत में
वाँ रुस्तम अगर आता तो देख के टल जाता
استادہ جہاں میں تھا میدانِ محبت میں، وાં رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ جہاں محبت کا میدان تھا اور استاد موجود تھے، تو وہاں رستم جیسے جنگجو بھی دیکھ کر دور ہو جاتے۔
6
वो सैर का वादी के माइल न हुआ वर्ना
आँखों को ग़ज़ालों की पाँव तले मल जाता
وہ سیر کا وادی کے میل نہ ہوا ورنہ، آنکھوں کو غزلوں کی پاؤں تلے مل جاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر یہ راستہ سیرگاہ سے میل دور نہ ہوتا، تو میری آنکھیں غزلوں کے قدموں تلے کچلی جاتیں۔
7
बे-ताब-ओ-तवाँ यूँ मैं काहे को तलफ़ होता
याक़ूती तिरे लब की मिलती तो सँभल जाता
اے بےتاب و تواں، یوں میں کاہے کو تلطف ہوتا؟ یاقوتی تیرے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا۔
8
उस सीम-बदन को थी कब ताब-ए-ताब इतनी
वो चाँदनी में शब की होता तो पिघल जाता
اس نفاست کے جسم میں کبھی اتنی چمک نہیں تھی، اگر یہ چاندنی رات میں ہوتا تو پگھل جاتا۔
9
मारा गया तब गुज़रा बोसे से तिरे लब के
क्या 'मीर' भी लड़का था बातों में बहल जाता
جب تم اپنے ہونٹوں سے گزرے، اے بو سے، میر بھی تمہاری باتوں میں بہل گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
