غزل
क्या लड़के दिल्ली के हैं अय्यार और नट-खट
क्या लड़के दिल्ली के हैं अय्यार और नट-खट
یہ غزل دہلی کے 'ایار اور نٹ-کھٹ' کے رنگ و نکھار کو پیش کرتی ہے، جو زندگی اور محبت کے جوش و خروش پر مرکوز ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دل کا ٹوٹنا یا عشق میں پڑنا ایک فوری اور شدید تجربہ ہے، جو کسی تاخیر کے بغیر ہوتا ہے۔ نظم کا لہجہ شاداب اور چنچل ہے جو عشق کے جوش کو بیان کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
क्या लड़के दिल्ली के हैं अय्यार और नट-खट
दिल लें हैं यूँ कि हरगिज़ होती नहीं है आहट
کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹ
دل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ
کیا لڑکے دہلی کے ہیں، अय्याر اور نٹ-کھٹ، جن کے دل اس طرح لے لیے گئے ہیں کہ کوئی آہٹ بھی نہیں سنائی دیتی؟
2
हम आशिक़ों को मरते क्या देर कुछ लगे है
चट जिन ने दिल पे खाई वो हो गया है चट-पट
ہم عاشقوں کو مرتے کیا دیر کچھ لگے ہے
چٹ جن نے دل پہ کھائی وہ ہو گیا ہے چٹ پٹ
شاعر کہتے ہیں کہ عاشقوں کو مرنے میں کیا دیر لگے ہے، جو بھی دل پر چھو گیا وہ چٹ-पट ہو گیا۔
3
दिल है जिधर को ऊधर कुछ आग सी लगी थी
उस पहलू हम जो लेटे जल जल गई है करवट
دل ہے جدھر کو اودھر کچھ آگ سی لگی تھی
اس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ
دل ہے جہاں بھی کو اُدھر کچھ آگ سی لگی تھی؛ اُس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ۔
4
कलियों को तू ने चट चट ऐ बाग़बाँ जो तोड़ा
बुलबुल के दिल जिगर को ज़ालिम लगी है क्या चट
کلیوں کو تو نے چٹ چٹ اے باغباں جو توڑا
بلبل کے دل جگر کو ظالم لگی ہے کیا چٹ
اے باغبان، کلیاں کو تو نے 'چٹ چٹ' کرکے جو توڑا، کیا بلبل کے دل جگر کو ظالم لگا؟
5
जी ही हटे न मेरा तो उस को क्या करूँ मैं
हर-चंद बैठता हूँ मज्लिस में उस से हट हट
جی ہی ہٹے نہ میرا تو اس کو کیا کروں میں
ہر چند بیٹھتا ہوں مجلس میں اس سے ہٹ ہٹ
اگر میں اپنا وجود نہیں چھوڑتا، تو میں اُس کو کیا کروں گا؟ میں محفل میں بیٹھ کر اُس سے دور ہوتا ہوں۔
6
देती है तूल बुलबुल क्या नाला-ओ-फ़ुग़ाँ को
दिल के उलझने से हैं ये आशिक़ों की फट फट
دیتی ہے طول بلبل کیا نالہ و فغاں کو
دل کے الجھنے سے ہیں یہ عاشقوں کی پھٹ پھٹ
کیا بلبل غم اور آہوں کی ندی میں رنگ دیتی ہے؟ یہ تو دل کے الجھنے سے عاشقوں کا کانپنا ہے۔
7
मुर्दे न थे हम ऐसे दरिया पे जब था तकिया
उस घाट गाह ओ बेगह रहने लगा था जमघट
مردے نہ تھے ہم ایسے دریا پہ جب تھا تکیہ
اس گھاٹ گاہ و بیگہ رہنے لگا تھا جمگھٹ
شایر کہتا ہے کہ ہم اس دریا کے کنارے ایسے نہیں تھے جب تکیہ رکھا گیا تھا؛ وہ گہٹ، او محبوب، ایک جمعگشت بن گیا تھا۔
8
रुक रुक के दिल हमारा बे-ताब क्यूँ न होवे
कसरत से दर्द-ओ-ग़म की रहता है उस पे झुरमुट
رک رک کے دل ہمارا بے تاب کیوں نہ ہووے
کثرت سے درد و غم کی رہتا ہے اس پہ جھرمٹ
ہمارا دل رُک رُک کے بےتاب کیوں نہ ہو، جب اس پر مسلسل درد و غم کی جھری پڑی ہے۔
9
शब 'मीर' से मिले हम इक वहम रह गया है
उस के ख़्याल-ए-मू में अब तो गया बहुत लट
شب میرؔ سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہے
اس کے خیال مو میں اب تو گیا بہت لٹ
شاعر ’میر‘ سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہے، اُس کے خیالوں کے مو میں اب تو گیا بہت لٹ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
