Sukhan AI
غزل

क्या लड़के दिल्ली के हैं अय्यार और नट-खट

क्या लड़के दिल्ली के हैं अय्यार और नट-खट
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل دہلی کے 'ایار اور نٹ-کھٹ' کے رنگ و نکھار کو پیش کرتی ہے، جو زندگی اور محبت کے جوش و خروش پر مرکوز ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دل کا ٹوٹنا یا عشق میں پڑنا ایک فوری اور شدید تجربہ ہے، جو کسی تاخیر کے بغیر ہوتا ہے۔ نظم کا لہجہ شاداب اور چنچل ہے جو عشق کے جوش کو بیان کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्या लड़के दिल्ली के हैं अय्यार और नट-खट दिल लें हैं यूँ कि हरगिज़ होती नहीं है आहट
کیا لڑکے دہلی کے ہیں، अय्याر اور نٹ-کھٹ، جن کے دل اس طرح لے لیے گئے ہیں کہ کوئی آہٹ بھی نہیں سنائی دیتی؟
2
हम आशिक़ों को मरते क्या देर कुछ लगे है चट जिन ने दिल पे खाई वो हो गया है चट-पट
شاعر کہتے ہیں کہ عاشقوں کو مرنے میں کیا دیر لگے ہے، جو بھی دل پر چھو گیا وہ چٹ-पट ہو گیا۔
3
दिल है जिधर को ऊधर कुछ आग सी लगी थी उस पहलू हम जो लेटे जल जल गई है करवट
دل ہے جہاں بھی کو اُدھر کچھ آگ سی لگی تھی؛ اُس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ۔
5
जी ही हटे न मेरा तो उस को क्या करूँ मैं हर-चंद बैठता हूँ मज्लिस में उस से हट हट
اگر میں اپنا وجود نہیں چھوڑتا، تو میں اُس کو کیا کروں گا؟ میں محفل میں بیٹھ کر اُس سے دور ہوتا ہوں۔
6
देती है तूल बुलबुल क्या नाला-ओ-फ़ुग़ाँ को दिल के उलझने से हैं ये आशिक़ों की फट फट
کیا بلبل غم اور آہوں کی ندی میں رنگ دیتی ہے؟ یہ تو دل کے الجھنے سے عاشقوں کا کانپنا ہے۔
7
मुर्दे न थे हम ऐसे दरिया पे जब था तकिया उस घाट गाह ओ बेगह रहने लगा था जमघट
شایر کہتا ہے کہ ہم اس دریا کے کنارے ایسے نہیں تھے جب تکیہ رکھا گیا تھا؛ وہ گہٹ، او محبوب، ایک جمعگشت بن گیا تھا۔
9
शब 'मीर' से मिले हम इक वहम रह गया है उस के ख़्याल-ए-मू में अब तो गया बहुत लट
شاعر ’میر‘ سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہے، اُس کے خیالوں کے مو میں اب تو گیا بہت لٹ۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.