غزل

क्या कहें आतिश-ए-हिज्राँ से गले जाते हैं

क्या कहें आतिश-ए-हिज्राँ से गले जाते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل جدائی کے شدید جذبات اور محبت کے درد کو بیان کرتی ہے۔ اس میں جدائی کی آگ سے گلے ملنے اور جذباتی طوفان میں جل جانے کا احساس ہے۔ اشعار محبت کے راستے کی مشکلات اور گہرے عقیدت کے طور پر آنسوؤں کے بہنے کو دکھاتے ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या कहें आतिश-ए-हिज्राँ से गले जाते हैं छातियाँ सुलगें हैं ऐसी कि जले जाते हैं
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں
کیا کہیں، میں آتشِ ہجر سے گلے لگتا ہوں، ایسی کہ سینے جلنے لگتے ہیں۔
2
गौहर-ए-गोश किसू का नहीं जी से जाता आँसू मोती से मिरे मुँह पे ढले जाते हैं
گوہر گوش کسو کا نہیں جی سے جاتا آنسو موتی سے مرے منہ پہ ڈھلے جاتے ہیں
دل کا نِکتار میرے جان سے نہیں جاتا، میرے آنسو موتیوں کی طرح میرے منہ پر گرتے ہیں۔
3
यही मसदूद है कुछ राह-ए-वफ़ा वर्ना बहम सब कहीं नामा ओ पैग़ाम चले जाते हैं
یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم سب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں
یہ ہی سچائی ہے وفا کے راستے کی، ورنہ نام و پیغام ہر جگہ چلے جاتے ہیں۔
4
बार-ए-हिरमान-ओ-गुल-ओ-दाग़ नहीं अपने साथ शजर-ए-बाग़-ए-वफ़ा फूले फले जाते हैं
بار حرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ شجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں
حیرمان اور گل اور داغ کی مہک یا نشان میرے پاس نہیں ہیں، مگر وفا کے باغ کے شجر پھولتے اور مرجھاتے رہتے ہیں۔
5
हैरत-ए-इश्क़ में तस्वीर से रफ़्ता ही रहे ऐसे जाते हैं जो हम भी तो भले जाते हैं
حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے ایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
عشق کے نشے میں آنکھیں تصویر سے بھٹکتی ہیں، مگر جو لوگ چلے جاتے ہیں، ہم بھی تو ایسے ہی چلے جا سکتے ہیں۔
6
हिज्र की कोफ़्त जो खींचे हैं उन्हीं से पूछो दिल दिए जाते हैं जी अपने मले जाते हैं
ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انہیں سے پوچھو دل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں
وہ مجھ سے پوچھو جو ہجر کی پردہ کھینچتے ہیں؛ دل دیے جاتے ہیں، اور جی اپنے مچل جاتے ہیں۔
7
याद-ए-क़द में तिरे आँखों से बहें हैं जुएँ गर किसू बाग़ में हम सर्व तले जाते हैं
یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں گر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں
یادِ قَد میں تیرے آنکھوں سے بہیں ہیں جُویں، اگر کسی باغ میں ہم سب چلے جاتے ہیں۔
8
देखें पेश आवे है क्या इश्क़ में अब तो जूँ सैल हम भी इस राह में सर गाड़े चले जाते हैं
دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل ہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں
دیکھیں کہ عشق میں اب کیا چیز پیش آتی ہے، جیسے کوئی پہاڑ۔ ہم بھی اس راہ میں اپنا کیمپ لگا کر چلتے جاتے ہیں۔
9
पुर-ग़ुबारी-ए-जहाँ से नहीं सुध 'मीर' हमें गर्द इतनी है कि मिट्टी में रुले जाते हैं
پر غبارئ جہاں سے نہیں سدھ میرؔ ہمیں گرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں
دنیا کی گندگی سے 'میر' ہمیں ہوش کھو بیٹھے ہیں؛ / ہماری گندگی اتنی ہے کہ ہم مٹی میں رونے لگتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.