غزل

कुछ तो कह वस्ल की फिर रात चली जाती है

कुछ तो कह वस्ल की फिर रात चली जाती है
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل جدائی کے دکھ اور وقت کے مسلسل گزرنے کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ شاعر منگتا ہے کہ وصال کی بات تو کہہ دو، کیونکہ رات گزر جاتی ہے، اور زندگی کے اہم لمحات بھی یوں ہی گزر جاتے ہیں۔ یہ محبت میں نہ کہی باتوں اور وقت کے ظالم کھیل پر ایک گہرا تنقیدی خیال ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कुछ तो कह वस्ल की फिर रात चली जाती है दिन गुज़र जाएँ हैं पर बात चली जाती है
کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے دن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے
وصل کی رات کے بارے میں کچھ کہا جاتا ہے، اور پھر رات گزر جاتی ہے؛ دن گزر گئے ہیں، لیکن باتیں چلتی رہتی ہیں۔
2
रह गए गाह तबस्सुम पे गहे बात ही पर बारे ऐ हम-नशीं औक़ात चली जाती है
رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے
جب قہقہہ ہونٹوں پر رہ گئے، تو بات ابھی نامکمل ہے؛ اے ہم نشیں، وقت گزرتا جاتا ہے۔
3
टुक तो वक़्फ़ा भी कर ऐ गर्दिश-ए-दौराँ कि ये जान उम्र के हैफ़ ही क्या सात चली जाती है
ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے
تک تو وقفہ بھی کر اے گردشِ دوراں کہ یہ جان عمر کے ہاف کیا سات چلی جاتی ہے
4
याँ तो आती नहीं शतरंज-ज़माना की चाल और वाँ बाज़ी हुई मात चली जाती है
یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے
شاعر کہہ رہا ہے کہ شطرنج کے کھیل کی چال اس طرح نہیں آتی، اور دوسری طرف کھیلنے سے مات ہو جاتی ہے۔
5
रोज़ आने पे नहीं निस्बत-ए-इश्क़ी मौक़ूफ़ उम्र भर एक मुलाक़ात चली जाती है
روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
روز آنے پر نہیں نسبتِ عشقِ اِشقی موقوف عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
6
शैख़-ए-बे-नफ़स को नज़ला नहीं है नाक की राह ये है ज़िर्यान-ए-मनी धात चली जाती है
شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے
شاعر کو سانس کے بغیر نزلہ نہیں ہو سکتا؛ یہ تو دل کی رگوں کی دھار ہے جو بہہ جاتی ہے۔
7
ख़िर्क़ा मिंदील ओ रिदा मस्त लिए जाते हैं शैख़ की सारी करामात चली जाती है
خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے
جب مست کے خِرْقہ، مِندیل اور رِدّہ پہنائے جاتے ہیں، تو ایک شاعر کے مطابق، ایک شیخ کی ساری کرامات ختم ہو جاتی ہیں۔
8
है मुअज़्ज़िन जो बड़ा मुर्ग़ मुसल्ली उस की मस्तों से नोक ही की बात चली जाती है
ہے مؤذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے
مؤذن، جو بڑا مرغ ہے، اس کی باتوں سے مست لوگ جھگڑالے شروع کر دیتے ہیں۔
9
पाँव रुकता नहीं मस्जिद से दम-ए-आख़िर भी मरने पर आया है पर लात चली जाती है
پاؤں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے
پاؤں مسجد سے آخری سانس تک نہیں رکتا؛ مرنے کے لیے آیا ہے، مگر لات مارتا رہتا ہے۔
10
एक हम ही से तफ़ावुत है सुलूकों में 'मीर' यूँ तो औरों की मुदारात चली जाती है
ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میرؔ یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے
شاعر کہتا ہے کہ میرے سُلوک میں میں ہی مختلف ہوں، کیونکہ دوسروں کی خامیاں بس گزر جاتی ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.