غزل
करते ही नहीं तर्क-ए-बुताँ तौर-ए-जफ़ा का
करते ही नहीं तर्क-ए-बुताँ तौर-ए-जफ़ा का
یہ غزل بے وفائی اور غیر ضروری درد کے دلائل کو رد کرتی ہے، اور خدا کے دیدار کی امید میں زندگی کی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ اس میں وفاداری اور محبت کے پیچیدہ تعلقات پر غور کیا گیا ہے، اور ہر لفظ اور لہجے پر شک کی स्थिति को भी व्यक्त किया गया ہے۔
نغمہ سنیں
1
करते ही नहीं तर्क-ए-बुताँ तौर-ए-जफ़ा का
शायद हमीं दिखलावेंगे दीदार ख़ुदा का
کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا
کرتے ہی نہیں، کہ (بوتاں) کے منطق اور (جفا) کے طریقے پر، شاید ہم ہی خدا کا دیدار دکھا لیں گے۔
2
है अब्र की चादर शफ़क़ी जोश से गुल के
मयख़ाने के हाँ देखिए ये रंग हवा का
ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کے
میخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا
ابَر کی چادر شفقّی جوش سے ہل رہی ہے؛ دیکھو، پھولوں کے مے خانے میں ہوا کے رنگ۔
3
बहुतेरी गिरो जिंस-कुलालों के पड़ी है
क्या ज़िक्र है वाइ'ज़ के मुसल्ला-ओ-रिदा का
بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہے
کیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا
بہت سی نسلوں کے لوگ گر چکے ہیں، اور بیویوں کے مسلا و ردا کا کیا ذکر ہے؟
4
मर जाएगा बातों में कोई ग़म-ज़दा यूँ ही
हर लहज़ा न हो मुम्तहिन अरबाब-ए-वफ़ा का
مر جائے گا باتوں میں کوئی غم زدہ یوں ہی
ہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا
बातचीत में कोई غمگین شخص यूँ ही मर जाएगा, हर लहजा वफ़ा के आदमियों द्वारा परखा नहीं जा सकता।
5
तदबीर थी तस्कीं के लिए लोगों की वर्ना
मा'लूम था मुद्दत से हमें नफ़ा दवा का
تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہ
معلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا
تسکین کے لیے لوگوں کی کوئی تدبیر تھی، ورنہ معلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا
6
हाथ आईना-रूयों से उठा बैठें न क्यूँकर
बिल-अकस असर पाते थे हम अपनी दुआ का
ہاتھوں کے آئینہ-رُیوں سے اٹھ کر بیٹھنا کیوں، میرے پیارے؟ ہماری دعا کا اثر پہلے کتنا جادوئی تھا۔
7
आँख उस की नहीं आईने के सामने होती
हैरत-ज़दा हूँ यार की मैं शर्म-ओ-हया का
آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتی
حیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا
उस کی آنکھ اس کے سامنے نہیں ہوتی آئینہ کے، میں حیرت زدہ ہوں یار اس کی حیا اور شرم کے
8
बरसों से तू यूँ है कि घटा जब उमँड आई
तब दीदा-ए-तर से भी हुआ एक झड़ाका
برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئی
تب دیدۂ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا
برسوں سے تم یوں ہی تھے، کہ جب بادل اُمڈ آئے تو تمہاری آنکھوں سے بھی ایک چمک نظر آئی۔
9
आँख उस से नहीं उठने की साहब नज़रों की
जिस ख़ाक पे होगा असर उस की कफ़-ए-पा का
آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کی
جس خاک پہ ہوگا اثر اس کی کف پا کا
صاحب، نظریں اس سے نہیں ہٹتی ہیں؛ بلکہ وہ خاک ہے جس پر اس کے پاؤں پڑتے ہیں اور جو اثر کرتی ہے۔
10
तलवार के साए ही में काटे है तो ऐ 'मीर'
किस दिल-ज़दा को हुए है ये ज़ौक़ फ़ना का
تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میرؔ
کس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا
اگر تم تلوار کے سائے میں کاٹے ہو، اے 'میر'، تو کس دل زدا کو فنا کا یہ ذوق ہوا ہے؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
