غزل
कल बारे हम से इस से मुलाक़ात हो गई
कल बारे हम से इस से मुलाक़ात हो गई
یہ غزل کسی سے ملاقات کے تجربے کو بیان کرتی ہے، جس میں وقت کے گزرنے اور زندگی کی مشکلات کا ذکر ہے۔ شاعر نے محبت اور جدائی کے درد کو مختلف استعارے کے ذریعے پیش کیا ہے، جہاں ہر واقعہ سے ایک نیا موڑ یا پیچیدگی آ گئی ہے۔
نغمہ سنیں
1
कल बारे हम से इस से मुलाक़ात हो गई
दो दो बचन के होने में इक बात हो गई
کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی
دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی
کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی، دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی۔
2
किन किन मुसीबतों से हुई सुब्ह शाम-ए-हिज्र
सो ज़ुल्फ़ें ही बनाते उसे रात हो गई
کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر
سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی
کِن کِن مصیبتوں سے ہوئی صبح شامِ ہجر؟ سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی۔ (مطلب: فراق اور غم سے کیسی کیسی مشکلات پیدا ہوئیں؟ صرف تمہارے بالوں نے ہی اسے رات بنا دیا۔)
3
गर्दिश निगाह-ए-मस्त की मौक़ूफ़ साक़िया
मस्जिद तो शैख़ जी की ख़राबात हो गई
گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا
مسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی
مست کی گھومتی نگاہیں رُک گئیں، اے ساقیا؛ مسجد تو شیخ جی کی خرابی سے خراب ہو گئی۔
4
डर ज़ुल्म से कि उस की जज़ा बस शिताब है
आया ‘अमल में याँ कि मुकाफ़ात हो गई
ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے
آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی
ڈر ظلم سے کہ اُس کی جزا بس شتاب ہے۔ آیا عمل میں یا کہ مکافات ہو گئی؟
5
ख़ुर्शीद सा प्याला-ए-मय बे-तलब दिया
पीर-ए-मुग़ाँ से रात करामात हो गई
خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا
پیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی
شمس جیسا شراب کا پیالہ بغیر مانگے دیا گیا؛ پیر-اے-مُگّاں سے رات میں کرامات ہو گئیں۔
6
कितना ख़िलाफ़ वा'दा हुआ होगा वो कि याँ
नव-मीदी-ओ-उमीद मुसावात हो गई
کتنا خلاف وعدہ ہوا ہوگا وہ کہ یاں
نومیدی و امید مساوات ہو گئی
वो वादा कितना خلاف وعدہ ہوا ہوگا کہ یہاں نئی امید اور مایوسی ایک جیسی ہو گئی ہے۔
7
आ शैख़ गफ़तगू-ए-परेशाँ पे तो न जा
मस्ती में अब तो क़िबला-ए-हाजात हो गई
آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جا
مستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی
اے شیخ، پریشان گفتگو پہ تو نہ جا، مستی میں اب تو قبلہِ حاجات ہو گئی
8
टक शहर से निकल के मिरा गिर्या सैर कर
गोया कि कोह-ओ-दश्त पे बरसात हो गई
ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر
گویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی
شہر سے نکل کر میں نے پہاڑوں میں سیر کی، گویا کہ کوہِ و دشت پر بارش ہو گئی ہو۔
9
दीदार की गुरस्नगी अपनी यहीं से देख
इक ही निगाह यारों की औक़ात हो गई
دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ
اک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی
دیدار کی گُرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ، یاروں کی اوقات ہو گئی ایک ہی نگاہ۔
10
अपने तो होंट भी न हिले उस के रू-ब-रू
रंजिश की वज्ह 'मीर' वो क्या बात हो गई
اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو
رنجش کی وجہ میرؔ وہ کیا بات ہو گئی
اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے رو ب رو، رنجش کی وجہ 'میر' وہ کیا بات ہو گئی۔ (یعنی، جب میں اس کے سامنے تھا تو میرے ہونٹ تک نہیں ہلیں، تو یہ جھگڑا کیسی بات بن گئی۔)
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
