اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو — میر تقی میر

اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو رنجش کی وجہ میرؔ وہ کیا بات ہو گئی

“My own lips did not even move facing her, O Meer, What has become of this quarrel's matter?”

— میر تقی میر

معنی

اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے رو ب رو، رنجش کی وجہ 'میر' وہ کیا بات ہو گئی۔ (یعنی، جب میں اس کے سامنے تھا تو میرے ہونٹ تک نہیں ہلیں، تو یہ جھگڑا کیسی بات بن گئی۔)

تشریح

یہ شعر خاموشی کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔ محبوب کے ہونٹوں کا نہ ہلنا، عاشق کے لیے ایک ناقابلِ برداشت رنجش ہے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ یہ رنجش کیا ہو گئی، جب کوئی بات ہی نہیں ہو رہی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10