غزل

जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं

जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ان رشتوں اور حالات پر ہے جہاں کسی شخص کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کر دی جاتی ہے۔ اس میں یہ جذبہ بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو راہ میں اجنبی جیسے نظر آتے ہیں، مگر دراصل ان کے سینے میں بھی کسی زخم یا درد کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ یہ انسانی ذہن کی پیچیدگی اور معاشرے کے دکھاوے پر ایک غور و فکر ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं इस राह में वे जैसे अंजान निकलते हैं
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں، اس راہ میں وہ جیسے اجنبی نکلتے ہیں۔
2
क्या तीर-ए-सितम उस के सीने में भी टूटे थे जिस ज़ख़्म को चीरूँ हूँ पैकान निकलते हैं
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
کیا تیرِ ستم اس کے سینے میں بھی ٹُٹے تھے، جس زخم کو میں چیروں، پیکن نکلتے ہیں۔
3
मत सहल हमें जानो फिरता है फ़लक बरसों तब ख़ाक के पर्दे से इंसान निकलते हैं
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
شاعِر کہتا ہے کہ ہمیں مت جاننا، کیونکہ یہ فلک صدیوں سے بھٹکتا ہے، اور انسان تو خاک کے پردے سے نکلتے ہیں۔
4
किस का है क़िमाश ऐसा गूदड़ भरे हैं सारे देखो न जो लोगों के दीवान निकलते हैं
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
کس کا ہے قِماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے۔ دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں۔
5
गह लोहू टपकता है गह लख़्त-ए-दिल आँखों से या टुकड़े जिगर ही के हर आन निकलते हैं
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
آنکھوں سے خون کے قیمتی موتی ٹپکتے ہیں، اے دل کے گہرے راز، یا جگر کے ٹکڑے ہر لمحے باہر نکلتے ہیں۔
6
करिए तो गिला किस से जैसी थी हमें ख़्वाहिश अब वैसे ही ये अपने अरमान निकलते हैं
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
کریں تو گلہ کس سے، جیسی تھی ہمیں خواہش۔ اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں۔
7
जागह से भी जाते हो मुँह से भी ख़शिन हो कर वे हर्फ़ नहीं हैं जो शायान निकलते हैं
جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کر وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
جگہ سے بھی جاتے ہو، منہ سے بھی خاشن ہو کر، وہ حرف نہیں ہیں جو شاعر نکلتے ہیں۔
8
सो काहे को अपनी तू जोगी की सी फेरी है बरसों में कभू ईधर हम आन निकलते हैं
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
اے، تمہاری زندگی کا یہ جو سفر ہے، یہ کس طرح ایک راہب کے گرد چکر کی طرح ہے؟ ہم تو برسوں سے کبھی اس جگہ سے باہر نہیں نکلتے۔
9
उन आईना-रूयों के क्या 'मीर' भी आशिक़ हैं जब घर से निकलते हैं हैरान निकलते हैं
ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیں جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
ان آئینہ-رُیوں کے کیا 'میر' بھی عاشق ہیں، جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان آئینہ جیسے چہروں کے عاشق کون ہیں، جو گھر سے نکلتے وقت हैरान नज़र आते हैं۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.