Sukhan AI
غزل

जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं

जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ان رشتوں اور حالات پر ہے جہاں کسی شخص کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کر دی جاتی ہے۔ اس میں یہ جذبہ بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو راہ میں اجنبی جیسے نظر آتے ہیں، مگر دراصل ان کے سینے میں بھی کسی زخم یا درد کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ یہ انسانی ذہن کی پیچیدگی اور معاشرے کے دکھاوے پر ایک غور و فکر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
मत सहल हमें जानो फिरता है फ़लक बरसों तब ख़ाक के पर्दे से इंसान निकलते हैं
شاعِر کہتا ہے کہ ہمیں مت جاننا، کیونکہ یہ فلک صدیوں سے بھٹکتا ہے، اور انسان تو خاک کے پردے سے نکلتے ہیں۔
4
किस का है क़िमाश ऐसा गूदड़ भरे हैं सारे देखो न जो लोगों के दीवान निकलते हैं
کس کا ہے قِماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے۔ دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں۔
5
गह लोहू टपकता है गह लख़्त-ए-दिल आँखों से या टुकड़े जिगर ही के हर आन निकलते हैं
آنکھوں سے خون کے قیمتی موتی ٹپکتے ہیں، اے دل کے گہرے راز، یا جگر کے ٹکڑے ہر لمحے باہر نکلتے ہیں۔
8
सो काहे को अपनी तू जोगी की सी फेरी है बरसों में कभू ईधर हम आन निकलते हैं
اے، تمہاری زندگی کا یہ جو سفر ہے، یہ کس طرح ایک راہب کے گرد چکر کی طرح ہے؟ ہم تو برسوں سے کبھی اس جگہ سے باہر نہیں نکلتے۔
9
उन आईना-रूयों के क्या 'मीर' भी आशिक़ हैं जब घर से निकलते हैं हैरान निकलते हैं
ان آئینہ-رُیوں کے کیا 'میر' بھی عاشق ہیں، جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان آئینہ جیسے چہروں کے عاشق کون ہیں، جو گھر سے نکلتے وقت हैरान नज़र आते हैं۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.