غزل
जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं
जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं
یہ غزل ان رشتوں اور حالات پر ہے جہاں کسی شخص کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کر دی جاتی ہے۔ اس میں یہ جذبہ بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو راہ میں اجنبی جیسے نظر آتے ہیں، مگر دراصل ان کے سینے میں بھی کسی زخم یا درد کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ یہ انسانی ذہن کی پیچیدگی اور معاشرے کے دکھاوے پر ایک غور و فکر ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जिन के लिए अपने तो यूँ जान निकलते हैं
इस राह में वे जैसे अंजान निकलते हैं
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں، اس راہ میں وہ جیسے اجنبی نکلتے ہیں۔
2
क्या तीर-ए-सितम उस के सीने में भी टूटे थे
जिस ज़ख़्म को चीरूँ हूँ पैकान निकलते हैं
کیا تیرِ ستم اس کے سینے میں بھی ٹُٹے تھے، جس زخم کو میں چیروں، پیکن نکلتے ہیں۔
3
मत सहल हमें जानो फिरता है फ़लक बरसों
तब ख़ाक के पर्दे से इंसान निकलते हैं
شاعِر کہتا ہے کہ ہمیں مت جاننا، کیونکہ یہ فلک صدیوں سے بھٹکتا ہے، اور انسان تو خاک کے پردے سے نکلتے ہیں۔
4
किस का है क़िमाश ऐसा गूदड़ भरे हैं सारे
देखो न जो लोगों के दीवान निकलते हैं
کس کا ہے قِماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے۔ دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں۔
5
गह लोहू टपकता है गह लख़्त-ए-दिल आँखों से
या टुकड़े जिगर ही के हर आन निकलते हैं
آنکھوں سے خون کے قیمتی موتی ٹپکتے ہیں، اے دل کے گہرے راز، یا جگر کے ٹکڑے ہر لمحے باہر نکلتے ہیں۔
6
करिए तो गिला किस से जैसी थी हमें ख़्वाहिश
अब वैसे ही ये अपने अरमान निकलते हैं
کریں تو گلہ کس سے، جیسی تھی ہمیں خواہش۔ اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں۔
7
जागह से भी जाते हो मुँह से भी ख़शिन हो कर
वे हर्फ़ नहीं हैं जो शायान निकलते हैं
جگہ سے بھی جاتے ہو، منہ سے بھی خاشن ہو کر، وہ حرف نہیں ہیں جو شاعر نکلتے ہیں۔
8
सो काहे को अपनी तू जोगी की सी फेरी है
बरसों में कभू ईधर हम आन निकलते हैं
اے، تمہاری زندگی کا یہ جو سفر ہے، یہ کس طرح ایک راہب کے گرد چکر کی طرح ہے؟ ہم تو برسوں سے کبھی اس جگہ سے باہر نہیں نکلتے۔
9
उन आईना-रूयों के क्या 'मीर' भी आशिक़ हैं
जब घर से निकलते हैं हैरान निकलते हैं
ان آئینہ-رُیوں کے کیا 'میر' بھی عاشق ہیں، جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان آئینہ جیسے چہروں کے عاشق کون ہیں، جو گھر سے نکلتے وقت हैरान नज़र आते हैं۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
