غزل

जिन जिन को था ये इश्क़ का आज़ार मर गए

जिन जिन को था ये इश्क़ का आज़ार मर गए
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ جس طرح عشق کے زخموں نے بہت سے لوگوں کو مار دیا ہے، اسی طرح زندگی کی دیگر مایوسیاں بھی دل توڑ دیتی ہیں۔ دنیا نے وفاداری اور محبت کی سچائی کو بھلا دیا ہے، اور بہت سے لوگ اپنے دل کے تاجر بن کر مر گئے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जिन जिन को था ये इश्क़ का आज़ार मर गए अक्सर हमारे साथ के बीमार मर गए
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے
جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے؛ اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے۔
2
होता नहीं है उस लब-ए-नौ-ख़त पे कोई सब्ज़ ईसा ओ ख़िज़्र क्या सभी यक-बार मर गए
ہوتا نہیں ہے اس لب نوخط پہ کوئی سبز عیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے
وہ نو-موتی جیسے ہونٹوں پر کبھی کوئی تازگی نہیں کھلتی؛ اے عیسیٰ اور خضر، کیا تم سب صرف ایک بار مرے ہو؟
3
यूँ कानों-कान गुल ने न जाना चमन में आह सर को पटक के हम पस-ए-दीवार मर गए
یوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہ سر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے
گل نے کاں کاں یہ آہ نہیں سنی، اور ہم دیوار کے پیچھے سر पटक کر مر گئے۔
4
सद कारवाँ वफ़ा है कोई पूछता नहीं गोया मता-ए-दिल के ख़रीदार मर गए
صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں گویا متاع دل کے خریدار مر گئے
سد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں گویا متاعِ دل کے خریدار مر گئے
5
मजनूँ न दश्त में है न फ़रहाद कोह में था जिन से लुत्फ़-ए-ज़िंदगी वे यार मर गए
مجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میں تھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے
مجنون نہ دشت میں ہے اور نہ فرہاد کوہ میں، وہ یار جن سے لطفِ زندگی تھا، وہ مر گئے۔
6
गर ज़िंदगी यही है जो करते हैं हम असीर तो वे ही जी गए जो गिरफ़्तार मर गए
گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیر تو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے
اگر زندگی یہی ہے کہ ہم اپنے اعمال کے قیدی ہیں، تو وہ لوگ ہی جیتے رہے جو قید ہو کر مر گئے۔
7
अफ़्सोस वे शहीद कि जो क़त्ल-गाह में लगते ही उस के हाथ की तलवार मर गए
افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں لگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے
شاعر کہہ رہا ہے کہ افسوس ہے اس شہید کا جو جب میدانِ جنگ میں گئے، تو پایا کہ اس کے اپنے ہاتھ کی تلوار بے کار ہو چکی تھی۔
8
तुझ से दो-चार होने की हसरत के मुब्तिला जब जी हुए वबाल तो नाचार मर गए
تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلا جب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے
تمہاری تھوڑی سی چاہت کے مست ہونے پر، جب دل بے قرار ہوا تو میں مایوسی سے مر گیا۔
9
घबरा न 'मीर' इश्क़ में उस सहल-ए-ज़ीस्त पर जब बस चला न कुछ तो मिरे यार मर गए
گھبرا نہ میرؔ عشق میں اس سہل زیست پر جب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے
غبرا نہ 'میر' عشق میں اس سہلِ زیست پر، جب بس چلا نہ کچھ تو میرے یار مر گئے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.