افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں
لگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے
“Alas for the martyr who, upon entering the battlefield, Found that the sword in his own hand was dead.”
— میر تقی میر
معنی
شاعر کہہ رہا ہے کہ افسوس ہے اس شہید کا جو جب میدانِ جنگ میں گئے، تو پایا کہ اس کے اپنے ہاتھ کی تلوار بے کار ہو چکی تھی۔
تشریح
یہ شعر ایک بہت گہرا، ایک بہت دکھ بھرا مفہوم پیش کرتا ہے۔ وہ شجاعت، وہ تلوار، جو میدانِ جنگ میں پہنچ کر بے کار ہو جاتی ہے۔ یہ صرف شکست نہیں، بلکہ تقدیر کے سامنے انسان کی بے بسی کا بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
