غزل

जब रोने बैठता हूँ तब क्या कसर रहे है

जब रोने बैठता हूँ तब क्या कसर रहे है
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبوب کے عشق اور جدائی کے شدید درد کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر سوال کرتا ہے کہ رونے کے لیے کیا کمی ہے۔ وہ اپنی اذیت کی شدت کا بیان کرتا ہے، جس میں ہر لمحہ ایک نئی تڑپ اور بے چینی ہے۔ شاعر یہ بھی کہتا ہے کہ محبوب کی یادیں اور اس کا حسن ہی اس کی ہر کیفیت کو معنی دے رہا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जब रोने बैठता हूँ तब क्या कसर रहे है रूमाल दो दो दिन तक जूँ अब्र तर रहे है
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے
جب رونے بیٹھتا ہوں تو کیا کمی رہ جاتی ہے؟ بس ایک رومال چاہیے جو دن بہ دن آنسو پونچھ سکے۔
2
आह-ए-सहर की मेरी बर्छी के वसवसे से ख़ुर्शीद के मुँह ऊपर अक्सर सिपर रहे है
آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سے خورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے
آۂ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سے، خورشید کے منہ پر اکثر پردہ رہتا ہے۔
3
आगह तो रहिए उस की तर्ज़-ए-रह-ओ-रविश से आने में उस के लेकिन किस को ख़बर रहे है
آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سے آنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے
اس کی عبادت اور محبت کے انداز کے قریب رہنا، لیکن یہ کس کو خبر ہے کہ وہ کب آئے گا، یا کس کے لیے آئے گا؟
4
उन रोज़ों इतनी ग़फ़लत अच्छी नहीं इधर से अब इज़्तिराब हम को दो दो पहर रहे है
ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے
ان روزوں سے اتنی غفلت اچھی نہیں کہ ادھر سے بھی، اب تو ہمیں دو دو پہر سے بے چینی ہو رہی ہے۔
5
आब-ए-हयात की सी सारी रविश है उस की पर जब वो उठ चले है एक आध मर रहे है
آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کی پر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے
اس کی تابانی حیاتِ آب کے مانند ہے، مگر جب وہ اٹھ جاتی ہے تو ہم سب مر رہے ہیں۔
6
तलवार अब लगा है बे-डोल पास रखने ख़ून आज कल किसू का वो शोख़ कर रहे है
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
تلوار اب لگا ہے بے-ڈول پاس رکھنے، خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے۔
7
दर से कभू जो आते देखा है मैं ने उस को तब से उधर ही अक्सर मेरी नज़र रहे है
در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کو تب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے
میں نے اس شخص کو دیکھا ہے جو دروازے سے آتا ہے، اور تب سے میری نظر اکثر اسی سمت میں رہتی ہے۔
8
आख़िर कहाँ तलक हम इक रोज़ हो चुकेंगे बरसों से वादा-ए-शब हर सुब्ह पर रहे है
آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گے برسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے
آخر کہاں تک ہم ایک روز ہو پائیں گے، جب برسوں سے ہر صبح پر شب کا وعدہ रखा गया है। (مطلب: جب مسلسل جدائی کا وعدہ پورا نہیں ہوتا، تو ایک ساتھ ہونے کا انتظار کب تک رہے گا؟)
9
'मीर' अब बहार आई सहरा में चल जुनूँ कर कोई भी फ़स्ल-ए-गुल में नादान घर रहे है
میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر کوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے
شایر کہتے ہیں کہ اب بہار آئی ہے صحرا میں، چلو جنون کر، کوئی بھی فصلِ گل میں ناداں گھر رہ ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.