تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے — میر تقی میر
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے
خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
“The sword is now kept near, without wavering, Whose blood they are provoking today, who is so bold?”
— میر تقی میر
معنی
تلوار اب لگا ہے بے-ڈول پاس رکھنے، خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے۔
تشریح
یہ شعر وقت کی بے چینی اور خطرناک ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ تلوار تو صرف قریب رکھی ہے، لیکن اصل مسئلہ وہ ہے جو آج کل لوگوں کے خون میں جوش پیدا کر کے فتنہ عام کر رہے ہیں۔ یہ ایک گہری تنبیہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
