غزل

हमें आमद-ए-'मीर' कल भा गई

हमें आमद-ए-'मीर' कल भा गई
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل مرزا غالب کی شاعری کے ذریعے محبت اور جدائی کے شدید جذبات کو بیان کرتی ہے۔ اس میں زندگی کی عارضی خوبصورتی اور یادوں کے اثر کا ذکر ہے، جو دل کو بے چین کر دیتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
हमें आमद-ए-'मीर' कल भा गई तरह इस में मजनूँ की सब पा गई
ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئی طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
ہمیں آمدِ 'میر' کل کی طرح اچانک محسوس ہوئی، جیسے اس میں مجنون کا تمام جوہر ظاہر ہو گیا۔
2
कहाँ का ग़ुबार-ए-आह दिल में ये था मिरी ख़ाक बदली सी सब छा गई
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھا مری خاک بدلی سی سب چھا گئی
دل میں یہ غبارِ آہ کہاں سے تھا، میری خاک بدلی سی سب چڑھی گئی।
3
क्या पास बुलबुल-ए-ख़िज़ाँ ने न कुछ गुल-ओ-बर्ग बे-दर्द फैला गई
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھ گل و برگ بے درد پھیلا گئی
کیا پاس بلبلِ خزاں نے کچھ گل و برگ بے درد پھیلا دیا؟
4
हुई सामने यूँ तो एक एक के हमें से वो कुछ आँख शर्मा गई
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کے ہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
सामنے ہوتے ہی، جیسے جیسے ہم اسے دیکھتے گئے، اس کی آنکھوں میں تھوڑی سی شرم دکھائی دی۔
5
जिगर मुँह तक आते नहीं बोलते ग़रज़ हम भी करते हैं क्या क्या गई
جگر منہ تک آتے نہیں بولتے غرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
دل اپنے جذبات کو منہ تک نہیں آنے دیتا؛ کیا ہمیں بھی اپنی ضرورتیں اور خواہشات نہیں ہیں؟
6
न हम-रह कोई ना कसी से गया मिरी लाश ता-गोर तन्हा गई
نہ ہم رہ کوئی نا کسی سے گیا مری لاش تا گور تنہا گئی
نہ میں، نہ میرا محبوب کسی کے ساتھ کہیں گیا؛ صرف میرا جسم تنہا تاگور کے پاس گیا۔
7
घटा शम्अ' साँ क्यूँ न जाऊँ चला तब-ए-ग़म जिगर को मिरे खा गई
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جاؤں چلا طبع غم جگر کو مرے کھا گئی
گٹا شمع ساں کیوں نہ جاؤں چلا، تبے غم جگر کو مِرے کھا گئی
8
कोई रहने वाली है जान अज़ीज़ गई गर न इमरोज़ फ़र्दा गई
کوئی رہنے والی ہے جان عزیز گئی گر نہ امروز فردا گئی
اگر کوئی رہنے والی ہے جان عزیز، گئی گر نہ امروز فردا گئی
9
किए दस्त-ओ-पा गुम जो 'मीर' आ गया वफ़ा-पेशा मज्लिस उसे पा गई
کیے دست و پا گم جو میرؔ آ گیا وفا پیشہ مجلس اسے پا گئی
جب 'میر' آ گئے تو دستانے اور آنکھیں جو گم تھے، وفاداری کی محفل کو پا گئیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.