किए दस्त-ओ-पा गुम जो 'मीर' आ गया
वफ़ा-पेशा मज्लिस उसे पा गई
“When 'Mir' arrived, the hands and eyes, which were lost, recovered their loyalty's assembly.”
— میر تقی میر
معنی
جب 'میر' آ گئے تو دستانے اور آنکھیں جو گم تھے، وفاداری کی محفل کو پا گئیں۔
تشریح
یہ شعر سچائی اور لگن کے گہرے اثر کو بیان کرتا ہے۔ میر تقی میر کہہ رہے ہیں کہ جب وہ حاضر ہوئے، تو وہ محفل جو پہلے ہی وفا سے سجی تھی، وہ بھی پوری طرح سے مسحور ہو گئی۔ یہ ایک ایسے وجود کی طاقت کا اعتراف ہے جو جذبات से भरा हो۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev9 / 9
