غزل

हम आप ही को अपना मक़्सूद जानते हैं

हम आप ही को अपना मक़्सूद जानते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل گہرے وقف و ایک منفرد مقصد کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ وہ صرف اپنے محبوب کو ہی اپنا آخری مقصد یا ہدف جانتا ہے۔ محبت کی گہرائی نے شاعر کو دنیا کی کسی بھی دوسری ہستی یا ضرورت کو اہمیت دینے سے منع کر دیا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हम आप ही को अपना मक़्सूद जानते हैं अपने सिवाए किस को मौजूद जानते हैं
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
آپ ہی میرے مقصود ہیں، اور اپنے سوا میں کسی کو موجود نہیں جانتا۔
2
इज्ज़-ओ-नियाज़ अपना अपनी तरफ़ है सारा इस मुश्त-ए-ख़ाक को हम मस्जूद जानते हैं
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
تمام عزت و نعمت آپ کی طرف ہے، میں خود کو صرف ایک دھول سے اٹا ہوا خادم جانتا ہوں۔
3
सूरत-पज़ीर हम बिन हरगिज़ नहीं वे माने अहल-ए-नज़र हमीं को मा'बूद जानते हैं
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانے اہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
سूरत کے لوگ، ہمارے بغیر کبھی نہیں مانیں گے۔ / اہلِ نظر ہمیں معبود جانتے ہیں۔
4
इश्क़ उन की अक़्ल को है जो मा-सिवा हमारे नाचीज़ जानते हैं ना-बूद जानते हैं
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے ناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ما-صوا ہمارے نَچیز جانتے ہیں نَبود جانتے ہیں۔ اس کا سادہ معنی ہے کہ محبت ان لوگوں کے لیے ہے جن کا عقل صرف ہمیں جانتا ہے، جو نہ تو ذلت اور نہ ہی فنا کو جانتے ہیں۔
5
अपनी ही सैर करने हम जल्वा-गर हुए थे इस रम्ज़ को व-लेकिन मादूद जानते हैं
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے اس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
مطلب: ہم اپنے ہی سفر میں نشہ آور ہوئے تھے، مگر اے محبوب، ہم اس فریب کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
6
यारब कसे है नाक़ा हर ग़ुंचा इस चमन का राह-ए-वफ़ा को हम तो मसदूद जानते हैं
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
دوست، یہ نہیں کہ اس چمن کا ہر گچھا ایک جال ہے؛ ہم تو جانتے ہیں کہ راہِ وفا کو مسدود ہیں۔
7
ये ज़ुल्म-ए-बे-निहायत दुश्वार-तर कि ख़ूबाँ बद-वज़इयों को अपनी महमूद जानते हैं
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں بد و ضیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں۔
8
क्या जाने दाब सोहबत अज़ ख़्वेश रफ़्तगाँ का मज्लिस में शैख़-साहिब कुछ कूद जानते हैं
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا مجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
کیا جانے دا ب صحبت از خویش رفتگان کا مَجْلِس میں شیخ-صاحب کچھ کُود جانتے ہیں
9
मर कर भी हाथ आवे तो 'मीर' मुफ़्त है वो जी के ज़ियान को भी हम सूद जानते हैं
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہ جی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو 'میر' مفت ہے وہ، کیونکہ ہم جی کی ضیاء پر بھی سود جانتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.