Sukhan AI
غزل

ग़म रहा जब तक कि दम में दम रहा

ग़म रहा जब तक कि दम में दम रहा
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ جب تک زندگی ہے، غم کا احساس قائم رہتا ہے۔ یہ ایک گہرے، دیرپا غم کی بات کرتی ہے جو دل میں موجود رہتا ہے، چاہے محبوب کی حُسنت کتنی بھی فریبندہ ہو۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ग़म रहा जब तक कि दम में दम रहा दिल के जाने का निहायत ग़म रहा
جب تک سانس میں سانس رہا، غم رہا، دل کے جانے کا نہایت غم رہا۔
2
हुस्न था तेरा बहुत आलम-फ़रेब ख़त के आने पर भी इक आलम रहा
حسن تھا تیرا بہت عالم-فریب، خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا۔
3
दिल न पहुँचा गोशा-ए-दामाँ तलक क़तरा-ए-ख़ूँ था मिज़ा पर जम रहा
میرا دل نہ پہنچا گوشۂ دامن تَلک، قطرۂ خون تھا मिज़ा پر جم رہا۔
4
सुनते हैं लैला के ख़ेमे को सियाह उस में मजनूँ का मगर मातम रहा
ہم لیلی کے خیمے کو سیاہ سنتے ہیں، مگر اس میں مجنوں کا ماتم رہا۔
5
जामा-ए-एहराम-ए-ज़ाहिद पर न जा था हरम में लेक ना-महरम रहा
شاعر کہہ رہا ہے کہ زاہد کے حرم کے کعبے پر نہ جانا، کیونکہ حرم میں بھی انسان پاک نہیں رہ سکتا۔
6
ज़ुल्फ़ें खोलीं तो तू टुक आया नज़र उम्र भर याँ काम-ए-दिल बरहम रहा
جب میں نے اپنے زُلفے کھولیے تو میری نظر تم پر ٹھہر گئی؛ میری دل کی آرزو زندگی بھر ادھوری رہی۔
9
सुब्ह-ए-पीरी शाम होने आई 'मीर' तू न चेता याँ बहुत दिन कम रहा
صبحِ پیری شام ہونے آئی، اے میر۔ تو نہ چہتا یاں بہت دن کم رہا۔ (مطلب: جب سادھو عورت کا صبح کا وقت شام جیسا ہو گیا، تب بھی اے میر، تم نے کوئی خبردار نہیں کیا اور بہت دن گزر گئے۔)
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ग़म रहा जब तक कि दम में दम रहा | Sukhan AI