उस के लब से तल्ख़ हम सुनते रहे
अपने हक़ में आब-ए-हैवाँ सम रहा
“From her lips, we continued to hear bitterness, As if the water of the beasts was meant for our right.”
— میر تقی میر
معنی
اس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہے، اپنے حق میں آبِ حیوان سم رہا۔
تشریح
یہ شعر دل کی گہرائی کا اعتراف ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ان ہونٹوں سے کڑوا پن سنتے رہے، جبکہ اپنے حق کے لیے تو ہم خود جانوروں کا پانی پی رہے تھے۔ یہ محبت میں خود کو اذیت دینے کی کیفیت ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
