جامۂ احرام زاہد پر نہ جا
تھا حرم میں لیک نامحرم رہا
“Do not go to the Kaaba of the ascetic, For even in the sanctuary, one remains un-sanctified.”
— میر تقی میر
معنی
شاعر کہہ رہا ہے کہ زاہد کے حرم کے کعبے پر نہ جانا، کیونکہ حرم میں بھی انسان پاک نہیں رہ سکتا۔
تشریح
یہ شعر پاکیزگی اور حدود کی بات کرتا ہے۔ میر تقی میر فرماتے ہیں کہ کسی بھی مقدس مقام پر، ہمیں غیر کے وجود کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ صرف جسمانی فاصلے نہیں، بلکہ روح کی پاکی کی بات ہے جو ہر طرح کی آمیزش سے دور رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
