غزل
फ़स्ल-ए-ख़िज़ाँ में सैर जो की हम ने जा-ए-गुल
फ़स्ल-ए-ख़िज़ाँ में सैर जो की हम ने जा-ए-गुल
یہ غزل شاعر کے جاگیرِ گل میں خزاں کے موسم میں سیر کرنے کے تجربے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں محبت کی یادوں اور دل کو چھو لینے والی آوازوں کی وجہ سے دل کی بے چینی اور مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ شاعر اس باغ میں زندگی کی عارضی پن اور عشق کے درد کو شراب کی طرح سہنے کا جذبہ ظاہر کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
फ़स्ल-ए-ख़िज़ाँ में सैर जो की हम ने जा-ए-गुल
छानी चमन की ख़ाक न था नक़्श-ए-पा-ए-गुल
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گل
چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پائے گل
پتخار کے موسم میں جب ہم نے گلابوں کے باغ میں سیر کی، تو پھولوں سے بچھے ہوئے زمین پر ہمارے قدموں کا کوئی نشان نہیں تھا۔
2
अल्लाह रे अंदलीब की आवाज़-ए-दिल-ख़राश
जी ही निकल गया जो कहा उन ने हाए गुल
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش
جی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
اَللّٰہ رے اَندلِیب کی آوازِ دِلِ خَراش۔ جی ہی نکل گیا جو کہا اُن نے، ہائے گل۔
3
मक़्दूर तक शराब से रख अँखड़ियों में रंग
ये चश्मक-ए-प्याला है साक़ी हवा-ए-गुल
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ
یہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہوائے گل
مقدر تک شراب سے میری آنکھوں میں رنگ بھر دے، کیونکہ یہ پیالہ گل کی ہوا جیسا ہے۔
4
ये देख सीना दाग़ से रश्क-ए-चमन है याँ
बुलबुल सितम हुआ न जो तू ने भी खाए गुल
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں
بلبل ستم ہوا نہ جو تو نے بھی کھائے گل
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشکِ چمن ہے یاں، بلبل ستم ہوا نہ جو تو نے بھی کھائے گل۔ اس کا مطلب ہے کہ کیا یہ سینہ باغ کے حسد سے داغدار ہے، یا یہ صرف وہ گل ہے جسے بلبل نے کھا لیا۔
5
बुलबुल हज़ार जी से ख़रीदार उस की है
ऐ गुल-फ़रोश करियो समझ कर बहा-ए-गुल
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے
اے گل فروش کریو سمجھ کر بہائے گل
بلبل کا مالک ہزار جانوں سے خریدا گیا ہے؛ اے گل فروشی، اس خوشبو کی دھار کو سمجھ کر نہ بہہ جانا۔
6
निकला है ऐसी ख़ाक से किस सादा-रू की ये
क़ाबिल दुरूद भेजने के है सफ़ा-ए-गुल
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ
قابل درود بھیجنے کے ہے صفائے گل
یہ کس سادہ روح سے نکلا ہے، جو ایسی خاک سے، اور جس کا چہرہ گل کی پنکھڑیوں پر دعا بھیجنے کے قابل ہے۔
7
बारे सरिश्क-ए-सुर्ख़ के दाग़ों से रात को
बिस्तर पर अपने सोते थे हम भी बिछाए गुल
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو
بستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
بارے سرِشک-ے-سرخ کے داغوں سے رات کو، بستر پر اپنے بھی گل بچھائے تھے۔
8
आ अंदलीब सुल्ह करें जंग हो चुकी
ले ऐ ज़बाँ-दराज़ तू सब कुछ सिवाए गुल
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہو چکی
لے اے زباں دراز تو سب کچھ سوائے گل
اے اَندلیب، صلح کر اے محبوب سے، جنگ ہو چکی ہے؛ اے زباں دراز، تو سب کچھ سواے گل
9
गुलचीं समझ के चुनियो कि गुलशन में 'मीर' के
लख़्त-ए-जिगर पड़े हैं नहीं बर्ग-हा-ए-गुल
گلچیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میرؔ کے
لخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہائے گل
تم نے یہ ایک سادہ پھول سمجھ کر چنا، حالانکہ گلشن میں 'میر' کے دل کے یہ ٹکڑے پڑے ہیں، نہ کہ صرف پھولوں کی پنکھڑیاں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
