ये देख सीना दाग़ से रश्क-ए-चमन है याँ
बुलबुल सितम हुआ न जो तू ने भी खाए गुल
“Is this chest marked by the stain of the garden's jealousy, or is it merely the flower that the nightingale consumed?”
— میر تقی میر
معنی
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشکِ چمن ہے یاں، بلبل ستم ہوا نہ جو تو نے بھی کھائے گل۔ اس کا مطلب ہے کہ کیا یہ سینہ باغ کے حسد سے داغدار ہے، یا یہ صرف وہ گل ہے جسے بلبل نے کھا لیا۔
تشریح
शायर अपने सीने के दाग़ों को बाग़ की जलन سے تشبیہ دیتے ہیں، جو ان کے دکھ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر وہ محبوب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ ستم اس لیے ہو رہا ہے، کیونکہ آپ نے بھی خود بھی گل چن کر کھائے ہیں، یعنی آپ بھی رشک کرتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
