मक़्दूर तक शराब से रख अँखड़ियों में रंग
ये चश्मक-ए-प्याला है साक़ी हवा-ए-गुल
“Paint my eyes with the color of wine, O cupbearer, for this cup is the wind of the rose.”
— میر تقی میر
معنی
مقدر تک شراب سے میری آنکھوں میں رنگ بھر دے، کیونکہ یہ پیالہ گل کی ہوا جیسا ہے۔
تشریح
یہ شعر نَشے اور عشق کے رنگ کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر ساقی سے کہہ رہے ہیں کہ میرے آنکھوں میں شراب کا رنگ برقرار رکھنا، حدت تک۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ پیالہ تو گلاب کی خوشبو لیے آ رہا ہے۔ یعنی عشق کا نشہ صرف شراب نہیں، بلکہ محبوب کی مہک ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
