غزل
फ़लक करने के क़ाबिल आसमाँ है
फ़लक करने के क़ाबिल आसमाँ है
یہ غزل ایک ایسے آسمان سے تشبیہ دیتی ہے جو فلک کرنے کے قابل ہے، جو شاعر کے نادان اور جوان مزاج کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں شاعر اپنے وجود اور اہمیت کا اظہار کرتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ اس کی حال کسی کے لیے فکر کا موضوع نہیں ہے۔ یہ کلام زندگی کی عدم استحکام اور اچانک آنے والی تبدیلیوں کے باوجود، ایک پُرعزم خود-تعارف اور وقار کا احساس پیش کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
फ़लक करने के क़ाबिल आसमाँ है
कि ये पीराना-सर जाहिल जवाँ है
مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان اتنا وسیع اور شاندار ہے کہ اس میں یہ نوجوان شامل ہے جو بوڑھا اور نادان ہے۔
2
गए उन क़ाफ़िलों से भी उठी गर्द
हमारी ख़ाक क्या जानें कहाँ है
ان قافلوں سے بھی دھول اٹھی، ہماری خاک کا انہیں کیا علم، کہ وہ کہاں ہے۔
3
बहुत ना-मेहरबाँ रहता है यानी
हमारे हाल पर कुछ मेहरबाँ है
یعنی وہ بہت بے رحم ہے، یعنی کیا ہمارے حال پر کوئی مہربان ہے؟
4
हमें जिस जाए कल ग़श आ गया था
वहीं शायद कि उस का आस्ताँ है
جس جگہ کل میرا بے ہوش ہو جانا تھا، شاید وہ اس شخص کا آستانہ ہے۔
5
मिज़ा हर इक है उस की तेज़ नावक
ख़मीदा भौं जो है ज़ोरीं कमाँ है
اس کا ہر انداز ایک تیز نیزے جیسا ہے، اور اس کی تعریف کرنے والی بھویں خوبصورت، خم دار کمانوں جیسی ہیں۔
6
उसे जब तक है तीर-अंदाज़ी का शौक़
ज़बूनी पर मिरी ख़ातिर निशाँ है
جب تک اسے تیراندازی کا شوق رہے گا، میری زبان پر اس کے لیے ایک نشان رہے گا۔
7
चली जाती है धड़कों ही में जाँ भी
यहीं से कहते हैं जाँ को रवाँ है
اس کا مطلب ہے کہ جان (روح) دھڑکنوں میں ہی چلی جاتی ہے، اور اسی جگہ سے کہتے ہیں کہ جان بہتی ہے۔
8
उसी का दम भरा करते रहेंगे
बदन में अपने जब तक नीम-जाँ है
جب تک بدن میں جان باقی ہے، میں اسی کی پیاس بجھاتا رہوں گا۔
9
पड़ा है फूल घर में काहे को 'मीर'
झमक है गुल की बर्क़-ए-आशियाँ है
شعر میں پوچھا جا رہا ہے، 'اے میر! گھر میں پھول کیوں گرا ہے؟ کیونکہ گل کی چمک تو اس کے آشیے میں ہے'۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
