غزل

दिल की तरफ़ कुछ आह से दिल का लगाओ है

दिल की तरफ़ कुछ आह से दिल का लगाओ है
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبت کے گہرے اور جذباتی کشش کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے محبوب سے اس کے ساتھ جڑنے کی التجا کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ اس کی نگاہ کا جادو بہت گہرا ہے۔ یہ محبت کے تناظر میں ایک طرح کی تڑپ اور سر تسلیم کرنے کا جذبہ ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
दिल की तरफ़ कुछ आह से दिल का लगाओ है टक आप भी तो आइए याँ ज़ोर बाव है
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے ٹک آپ بھی تو آئیے یاں زور باؤ ہے
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے، ایسا لگا جیسے دل کو کسی نے چھو لیا ہو؛ آپ بھی یہاں آئیے، کیونکہ یہ نشہ بہت تیز ہے۔
2
उठता नहीं है हाथ तिरा तेग़-ए-जौर से नाहक़ कुशी कहाँ तईं ये क्या सुभाव है
اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سے ناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھاؤ ہے
تیرا ہاتھ اپنے جوش کی طاقت سے نہیں اٹھتا۔ یہ کیسا خُلق ہے، تم اتنی ناحق کیوں ہو؟
3
बाग़-ए-नज़र है चश्म के मंज़र का सब जहाँ टक ठहरो याँ तो जानो कि कैसा दिखाओ है
باغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاں ٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھاؤ ہے
نظر کا باغ آنکھ کے منظر کی پوری دنیا ہے، یا تو ٹھہر کر دیکھو یا جان لو کہ یہ کیسا دکھاوا ہے۔
4
तक़रीब हम ने डाली है उस से जूए की अब जो बन पड़े है टक तो हमारा ही दाव है
تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی اب جو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی داؤ ہے
ہم نے اس پر جو جوئے کی قَریب ڈالی ہے، اب جو بن پایا ہے ٹَک، تو ہمارا ہی داؤ ہے۔
5
टपका करे है आँख से लोहू ही रोज़-ओ-शब चेहरे पे मेरे चश्म है या कोई घाव है
ٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شب چہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھاؤ ہے
آنکھ سے روز و شب لہو ٹپکنا، کیا یہ میرے چشمے کا عینک ہے یا کوئی زخم۔
6
ज़ब्त सरिश्क-ए-ख़ूनीं से जी क्यूँके शाद हो अब दिल की तरफ़ लोहू का सारा बहाओ है
ضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہو اب دل کی طرف لوہو کا سارا بہاؤ ہے
زبت سرِشکِ-خیونی سے جی کیوںکے شاد ہو اب دل کی طرف لوحوں کا سارا بہاؤ ہے
7
अब सब के रोज़गार की सूरत बिगड़ गई लाखों में एक दो का कहीं कुछ बनाओ है
اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی لاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بناؤ ہے
اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی ہے، کہ لاکھوں میں سے ایک دو کا کچھ کیسے کمایا جائے۔
8
छाती के मेरी सारे नुमूदार हैं ये ज़ख़्म पर्दा रहा है कौन सा अब क्या छुपाओ है
چھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخم پردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپاؤ ہے
ساری چوٹیں میرے سینے پر ظاہر ہیں، اب کون سا پردہ ہے جو انہیں چھپا سکے؟
9
आशिक़ कहें जो होगे तो जानोगे क़द्र-ए-'मीर' अब तो किसी के चाहने का तुम को चाव है
عاشق کہیں جو ہو گے تو جانو گے قدر میرؔ اب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چاؤ ہے
اگر آپ عاشق ہوں گے تو آپ 'میر' کی قدر جانیں گے؛ اب تو کسی کے چاہنے کی آپ کو چہ ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.