غزل
दिल की तरफ़ कुछ आह से दिल का लगाओ है
दिल की तरफ़ कुछ आह से दिल का लगाओ है
یہ غزل محبت کے گہرے اور جذباتی کشش کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے محبوب سے اس کے ساتھ جڑنے کی التجا کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ اس کی نگاہ کا جادو بہت گہرا ہے۔ یہ محبت کے تناظر میں ایک طرح کی تڑپ اور سر تسلیم کرنے کا جذبہ ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल की तरफ़ कुछ आह से दिल का लगाओ है
टक आप भी तो आइए याँ ज़ोर बाव है
دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے، ایسا لگا جیسے دل کو کسی نے چھو لیا ہو؛ آپ بھی یہاں آئیے، کیونکہ یہ نشہ بہت تیز ہے۔
2
उठता नहीं है हाथ तिरा तेग़-ए-जौर से
नाहक़ कुशी कहाँ तईं ये क्या सुभाव है
تیرا ہاتھ اپنے جوش کی طاقت سے نہیں اٹھتا۔ یہ کیسا خُلق ہے، تم اتنی ناحق کیوں ہو؟
3
बाग़-ए-नज़र है चश्म के मंज़र का सब जहाँ
टक ठहरो याँ तो जानो कि कैसा दिखाओ है
نظر کا باغ آنکھ کے منظر کی پوری دنیا ہے، یا تو ٹھہر کر دیکھو یا جان لو کہ یہ کیسا دکھاوا ہے۔
4
तक़रीब हम ने डाली है उस से जूए की अब
जो बन पड़े है टक तो हमारा ही दाव है
ہم نے اس پر جو جوئے کی قَریب ڈالی ہے، اب جو بن پایا ہے ٹَک، تو ہمارا ہی داؤ ہے۔
5
टपका करे है आँख से लोहू ही रोज़-ओ-शब
चेहरे पे मेरे चश्म है या कोई घाव है
آنکھ سے روز و شب لہو ٹپکنا، کیا یہ میرے چشمے کا عینک ہے یا کوئی زخم۔
6
ज़ब्त सरिश्क-ए-ख़ूनीं से जी क्यूँके शाद हो
अब दिल की तरफ़ लोहू का सारा बहाओ है
زبت سرِشکِ-خیونی سے جی کیوںکے شاد ہو
اب دل کی طرف لوحوں کا سارا بہاؤ ہے
7
अब सब के रोज़गार की सूरत बिगड़ गई
लाखों में एक दो का कहीं कुछ बनाओ है
اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی ہے، کہ لاکھوں میں سے ایک دو کا کچھ کیسے کمایا جائے۔
8
छाती के मेरी सारे नुमूदार हैं ये ज़ख़्म
पर्दा रहा है कौन सा अब क्या छुपाओ है
ساری چوٹیں میرے سینے پر ظاہر ہیں، اب کون سا پردہ ہے جو انہیں چھپا سکے؟
9
आशिक़ कहें जो होगे तो जानोगे क़द्र-ए-'मीर'
अब तो किसी के चाहने का तुम को चाव है
اگر آپ عاشق ہوں گے تو آپ 'میر' کی قدر جانیں گے؛ اب تو کسی کے چاہنے کی آپ کو چہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
