बाग़-ए-नज़र है चश्म के मंज़र का सब जहाँ
टक ठहरो याँ तो जानो कि कैसा दिखाओ है
“The garden of sight is the whole world of the eye's view, Either stop and observe, or know what a show it is.”
— میر تقی میر
معنی
نظر کا باغ آنکھ کے منظر کی پوری دنیا ہے، یا تو ٹھہر کر دیکھو یا جان لو کہ یہ کیسا دکھاوا ہے۔
تشریح
یہ شعر آنکھوں کے منظر کو پورے جہاں سے تشبیہ دیتا ہے، اور زندگی کو ایک عظیم مظاہرہ قرار دیتا ہے۔ شاعر، میر تقی میر، ہمیں ایک گہرا انتخاب پیش کرتے ہیں: یا تو رُک کر اس منظر کی خوبصورتی کو دیکھو، یا یہ جان لو کہ شاید یہ سب کچھ محض ایک دکھاوا ہے۔ یہ فکری تنقید کی بات ہے، جو ہمیں حقیقت اور محض وہم کے درمیان فرق سکھاتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
