उठता नहीं है हाथ तिरा तेग़-ए-जौर से
नाहक़ कुशी कहाँ तईं ये क्या सुभाव है
“Your hand does not rise with the might of your passion, What is this nature, why are you so unrighteous?”
— میر تقی میر
معنی
تیرا ہاتھ اپنے جوش کی طاقت سے نہیں اٹھتا۔ یہ کیسا خُلق ہے، تم اتنی ناحق کیوں ہو؟
تشریح
یہ شعر اس شخص کے متضاد رویے پر طنز ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کسی کا ہاتھ ہمیشہ تلوار کی زبردست تیاری میں رہتا ہے، مگر اس کا اخلاق اور رویہ سراسر ناانصافی کا ہے۔ یہ ایک تنقید ہے کہ ظاہری طاقت اور باطنی بے راہروگی میں کتنا فرق ہے۔
