Sukhan AI
غزل

बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का

बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ جس شخص یا صورتحال کے بارے میں آپ غلط گمان کرتے ہیں، اس کے چہرے یا رویے میں ایک مختلف رنگ ہے۔ یہ خبردار کرتی ہے کہ کسی کے ظاہری روپ یا مذہبی لباس سے اس کے اصل وجود کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، اور خوبصورتی اور حقیقت کے درمیان فرق بہت گہرا ہے۔ یہ ان لوگوں کو بھی تنبیہ کرتی ہے جو ظاہری حسن کی خاطر اپنی جان یا عقل کا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का देखा तो और रंग है सारे जहान का
میرا بدگمان کا نقاب چہرہ سے اٹھا تھا؛ دیکھا تو سارے جہاں کا اور رنگ ہے۔
2
मत मानियो कि होगा ये बे-दर्द अहल-ए-दीं गर आवे शैख़ पहन के जामा क़ुरआन का
مت مانو کہ یہ بے درد اہلِ دین ایسے ہی ہوگا کہ اگر کوئی شیخ پہن کر جامہ قرآن کا۔
3
ख़ूबी को उस के चेहरे की क्या पहुँचे आफ़्ताब है उस में इस में फ़र्क़ ज़मीन आसमान का
اس کے چہرے کی کیا خوبی کو آفتاب پہنچے گا۔ اس میں اور اس میں فرق زمین اور آسمان کا ہے۔
6
तस्कीन उस की तब हुई जब चुप मुझे लगी मत पूछ कुछ सुलूक मिरे बद-ज़बान का
سکون مجھے اس وقت ملا جب میں خاموش ہو گیا؛ میرے بدزباں سلوک کے بارے میں کچھ نہ پوچھنا۔
8
गुल यादगार-ए-चेहरा-ए-ख़ूबाँ है बे-ख़बर मुर्ग़-ए-चमन निशाँ है कसू ख़ुश-ज़बान का
تمہارے چہرے کی یاد ایک خوشبو والا پھول ہے جو بے خبر ہے، اور باغ کا مرغ ایک خوش زبان آدمی کی نشانی ہے۔
9
तू बरसों में कहे है मिलूँगा मैं 'मीर' से याँ कुछ का कुछ है हाल अभी इस जवान का
تُو برسوں میں کہے ہے ملوں گا میں 'میر' سے، یاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اِس جوان کا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ تم نے मुझसे برسوں بعد ملنے کا وعدہ کیا ہے، مگر اس نوجوان دل کی حالت ابھی بھی پریشان ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का | Sukhan AI