غزل
बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का
बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का
یہ غزل بتاتی ہے کہ جس شخص یا صورتحال کے بارے میں آپ غلط گمان کرتے ہیں، اس کے چہرے یا رویے میں ایک مختلف رنگ ہے۔ یہ خبردار کرتی ہے کہ کسی کے ظاہری روپ یا مذہبی لباس سے اس کے اصل وجود کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، اور خوبصورتی اور حقیقت کے درمیان فرق بہت گہرا ہے۔ یہ ان لوگوں کو بھی تنبیہ کرتی ہے جو ظاہری حسن کی خاطر اپنی جان یا عقل کا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔
نغمہ سنیں
1
बुर्क़ा उठा था रुख़ से मिरे बद-गुमान का
देखा तो और रंग है सारे जहान का
برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کا
دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا
میرا بدگمان کا نقاب چہرہ سے اٹھا تھا؛ دیکھا تو سارے جہاں کا اور رنگ ہے۔
2
मत मानियो कि होगा ये बे-दर्द अहल-ए-दीं
गर आवे शैख़ पहन के जामा क़ुरआन का
مت مانیو کہ ہوگا یہ بے درد اہل دیں
گر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا
مت مانو کہ یہ بے درد اہلِ دین ایسے ہی ہوگا کہ اگر کوئی شیخ پہن کر جامہ قرآن کا۔
3
ख़ूबी को उस के चेहरे की क्या पहुँचे आफ़्ताब
है उस में इस में फ़र्क़ ज़मीन आसमान का
خوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتاب
ہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا
اس کے چہرے کی کیا خوبی کو آفتاب پہنچے گا۔ اس میں اور اس میں فرق زمین اور آسمان کا ہے۔
4
अब्ला है वो जो होवे ख़रीदार-ए-गुल-रुख़ाँ
उस सौदे में सरीह है नुक़सान जान का
ابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاں
اس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا
وہ ہے وہ جو ہو خریدارِ گل رُخاں، اس سُوَدے میں صریح ہے نُقصانِ جان کا
5
कुछ और गाते हैं जो रक़ीब उस के रू-ब-रू
दुश्मन हैं मेरी जान के ये जी है तान का
کچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرو
دشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا
جو اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرو، دشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا
6
तस्कीन उस की तब हुई जब चुप मुझे लगी
मत पूछ कुछ सुलूक मिरे बद-ज़बान का
تسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگی
مت پوچھ کچھ سلوک مرے بد زبان کا
سکون مجھے اس وقت ملا جب میں خاموش ہو گیا؛ میرے بدزباں سلوک کے بارے میں کچھ نہ پوچھنا۔
7
याँ बुलबुल और गुल पे तो इबरत से आँख खोल
गुल-गश्त सरसरी नहीं उस गुलिस्तान का
یاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھول
گل گشت سرسری نہیں اس گلستان کا
یہاں بلبل اور گل پر تو عبادت سے آنکھ کھول، گل-گشت سرسری نہیں اس گلستان کا۔
8
गुल यादगार-ए-चेहरा-ए-ख़ूबाँ है बे-ख़बर
मुर्ग़-ए-चमन निशाँ है कसू ख़ुश-ज़बान का
گل یادگار چہرۂ خوباں ہے بے خبر
مرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا
تمہارے چہرے کی یاد ایک خوشبو والا پھول ہے جو بے خبر ہے، اور باغ کا مرغ ایک خوش زبان آدمی کی نشانی ہے۔
9
तू बरसों में कहे है मिलूँगा मैं 'मीर' से
याँ कुछ का कुछ है हाल अभी इस जवान का
تو برسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میرؔ سے
یاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا
تُو برسوں میں کہے ہے ملوں گا میں 'میر' سے، یاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اِس جوان کا۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ تم نے मुझसे برسوں بعد ملنے کا وعدہ کیا ہے، مگر اس نوجوان دل کی حالت ابھی بھی پریشان ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
