غزل
अमीरों तक रसाई हो चुकी बस
अमीरों तक रसाई हो चुकी बस
یہ غزل ایک ایسی حالت کو بیان کرتی ہے جہاں انسان کی تقدیر اور جدوجہد کا دائرہ صرف امیروں تک محدود ہو چکا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اس کی قسمت کی آزمائش، یا بہار کا گزرنا، اب ایک قفس میں قید ہو چکا ہے۔ مزید برآں، نظم میں بہت زیادہ جدوجہد اور اس جگہ پر اعتماد ٹوٹنے کا ذکر ہے جہاں سے شاعر روانہ ہوا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
अमीरों तक रसाई हो चुकी बस
मिरी बख़्त-आज़माई हो चुकी बस
صرف امیروں تک رسائی ہو چکی ہے، اور صرف میری قسمت کی آزمائش باقی ہے۔
2
बहार अब के भी जो गुज़री क़फ़स में
तो फिर अपनी रिहाई हो चुकी बस
اگر ایک اور بہار اس قفس سے گزر جائے، تو بس میری رہائی ہو چکی ہوگی۔
3
कहाँ तक उस से क़िस्सा क़ज़िया हर शब
बहुत बाहम लड़ाई हो चुकी बस
ہر رات اس سے قصہ ختم کرنا کتنا ممکن ہے، کیونکہ بہت لڑائی ہو چکی ہے۔
4
न आया वो मिरे जाते जहाँ से
यहीं तक आश्नाई हो चुकी बस
وہ میرے جانے کی جگہ پر نہیں آیا، بس میری امید اتنی ہی تک پہنچ گئی ہے۔
5
लगा है हौसला भी करने तंगी
ग़मों की अब समाई हो चुकी बस
میرا حوصلہ بھی اس تنگی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ اب غموں کا خلاصہ مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔
6
बराबर ख़ाक के तो कर दिखाया
फ़लक बस बे-अदाई हो चुकी बस
اس کا مطلب ہے کہ جو کام پہلے ناممکن تھا، وہ اب بہت آسان ہو گیا ہے، اور اس بات کو دیکھ کر آسمان بھی بے باک ہو گیا ہے۔
7
दनी के पास कुछ रहती है दौलत
हमारे हाथ आई हो चुकी बस
دنی کے پاس کچھ دولت باقی ہے، مگر ہمارے ہاتھوں میں جو آ چکی ہے وہ کافی ہے۔
8
दिखा उस बुत को फिर भी या ख़ुदाया
तिरी क़ुदरत-नुमाई हो चुकी बस
اے خدا یا، اگر تو اس بت کو بھی دکھا دے، تو تیری قدرت-نمائی بس ہو چکی ہے۔
9
शरर की सी है चश्मक फ़ुर्सत-ए-उम्र
जहाँ दे टुक दिखाई हो चुकी बस
شاعر کہتا ہے کہ اس کی آنکھوں کا نظارہ زندگی کے فراغت کے گہرے اور رازدار تالاب جیسا ہے، جہاں صرف ایک جھلک بھی کافی ہے۔
10
गले में गेरवी कफ़नी है अब 'मीर'
तुम्हारी मीरज़ाई हो चुकी बस
غلے میں گہری کفنی ہے اب 'میر'، تمہاری میرزائی ہو چکی بس۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اب 'میر' کے گلے میں گہری کفنی ہے، اور صرف اس کی 'میرزا' کی شناخت ہی باقی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
