غزل

अमीरों तक रसाई हो चुकी बस

अमीरों तक रसाई हो चुकी बस
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل ایک ایسی حالت کو بیان کرتی ہے جہاں انسان کی تقدیر اور جدوجہد کا دائرہ صرف امیروں تک محدود ہو چکا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اس کی قسمت کی آزمائش، یا بہار کا گزرنا، اب ایک قفس میں قید ہو چکا ہے۔ مزید برآں، نظم میں بہت زیادہ جدوجہد اور اس جگہ پر اعتماد ٹوٹنے کا ذکر ہے جہاں سے شاعر روانہ ہوا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
अमीरों तक रसाई हो चुकी बस मिरी बख़्त-आज़माई हो चुकी बस
امیروں تک رسائی ہو چکی بس مری بخت آزمائی ہو چکی بس
صرف امیروں تک رسائی ہو چکی ہے، اور صرف میری قسمت کی آزمائش باقی ہے۔
2
बहार अब के भी जो गुज़री क़फ़स में तो फिर अपनी रिहाई हो चुकी बस
بہار اب کے بھی جو گزری قفس میں تو پھر اپنی رہائی ہو چکی بس
اگر ایک اور بہار اس قفس سے گزر جائے، تو بس میری رہائی ہو چکی ہوگی۔
3
कहाँ तक उस से क़िस्सा क़ज़िया हर शब बहुत बाहम लड़ाई हो चुकी बस
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب بہت باہم لڑائی ہو چکی بس
ہر رات اس سے قصہ ختم کرنا کتنا ممکن ہے، کیونکہ بہت لڑائی ہو چکی ہے۔
4
न आया वो मिरे जाते जहाँ से यहीं तक आश्नाई हो चुकी बस
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے یہیں تک آشنائی ہو چکی بس
وہ میرے جانے کی جگہ پر نہیں آیا، بس میری امید اتنی ہی تک پہنچ گئی ہے۔
5
लगा है हौसला भी करने तंगी ग़मों की अब समाई हो चुकी बस
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی غموں کی اب سمائی ہو چکی بس
میرا حوصلہ بھی اس تنگی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ اب غموں کا خلاصہ مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔
6
बराबर ख़ाक के तो कर दिखाया फ़लक बस बे-अदाई हो चुकी बस
برابر خاک کے تو کر دکھایا فلک بس بے ادائی ہو چکی بس
اس کا مطلب ہے کہ جو کام پہلے ناممکن تھا، وہ اب بہت آسان ہو گیا ہے، اور اس بات کو دیکھ کر آسمان بھی بے باک ہو گیا ہے۔
7
दनी के पास कुछ रहती है दौलत हमारे हाथ आई हो चुकी बस
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت ہمارے ہاتھ آئی ہو چکی بس
دنی کے پاس کچھ دولت باقی ہے، مگر ہمارے ہاتھوں میں جو آ چکی ہے وہ کافی ہے۔
8
दिखा उस बुत को फिर भी या ख़ुदाया तिरी क़ुदरत-नुमाई हो चुकी बस
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا تری قدرت نمائی ہو چکی بس
اے خدا یا، اگر تو اس بت کو بھی دکھا دے، تو تیری قدرت-نمائی بس ہو چکی ہے۔
9
शरर की सी है चश्मक फ़ुर्सत-ए-उम्र जहाँ दे टुक दिखाई हो चुकी बस
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر جہاں دے ٹک دکھائی ہو چکی بس
شاعر کہتا ہے کہ اس کی آنکھوں کا نظارہ زندگی کے فراغت کے گہرے اور رازدار تالاب جیسا ہے، جہاں صرف ایک جھلک بھی کافی ہے۔
10
गले में गेरवी कफ़नी है अब 'मीर' तुम्हारी मीरज़ाई हो चुकी बस
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میرؔ تمہاری میرزائی ہو چکی بس
غلے میں گہری کفنی ہے اب 'میر'، تمہاری میرزائی ہو چکی بس۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اب 'میر' کے گلے میں گہری کفنی ہے، اور صرف اس کی 'میرزا' کی شناخت ہی باقی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.