غزل

आओ कभू तो पास हमारे भी नाज़ से

आओ कभू तो पास हमारे भी नाज़ से
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ایک انتہائی جذباتی اور ہجر سے بھرپور محبت کے کلام ہے، جس میں شاعر اپنے محبوب سے ملنے اور ساتھ گزارے لمحات کو سمیٹنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ زندگی کی فانیت اور محبت کی گہرائی پر غور کرتا ہے، اور ایک میٹھے اور قریب کے تعلق کی دعا کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
आओ कभू तो पास हमारे भी नाज़ से करना सुलूक ख़ूब है अहल-ए-नियाज़ से
آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے
اگر تم کبھی ہمارے قریب آؤ، تو ہمارے حسن کے ساتھ، تمام انسانیت کے محبوب کی طرح سلوک کرنا۔
2
फिरते हो क्या दरख़्तों के साए में दूर दूर कर लो मुवाफ़क़त किसू बेबर्ग-ओ-साज़ से
پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور کر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے
کیا آپ درختوں کی سائے میں دور دور گھومتے ہیں، یا کسی پتوں سے عاری اور بے ساز فن سے اتفاق کرتے ہیں؟
3
हिज्राँ में उस के ज़िंदगी करना भला न था कोताही जो न होवे ये उम्र-ए-दराज़ से
ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھا کوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے
مجھ کو اس کے بغیر زندگی گزارنا اچھا نہیں تھا، کہیں کہ اس طویل زندگی میں کوتاہی نہ ہو جائے۔
4
मानिंद-ए-सुब्हा उक़दे न दिल के कभू खुले जी अपना क्यूँ कि उचटे न रोज़े नमाज़ से
مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلے جی اپنا کیوں کہ اچٹے نہ روزے نماز سے
مانیندے صبحا عقده نہ دل کے کبھے کھلے، / جی اپنا کیوں کہ اچھٹے نہ روزے نماز سے
5
करता है छेद छेद हमारा जिगर तमाम वो देखना तिरा मिज़ा-ए-नीम-बाज़ से
کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تمام وہ دیکھنا ترا مژۂ نیم باز سے
تیرا میزاۓ نیم باز دیکھنا ہمارے پورے جگر میں سوراخ کر دیتا ہے۔
6
दिल पर हो इख़्तियार तो हरगिज़ न करिए इश्क़ परहेज़ करिए इस मरज़-ए-जाँ-गुदाज़ से
دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشق پرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے
اگر دل پر اختیار ہو تو کبھی بھی عشق نہ کریں؛ اس مرہمِ جان کو تباہ کرنے والے مرض سے پرہیز کریں۔
7
आगे बिछा के नता को लाते थे तेग़ ओ तश्त करते थे यानी ख़ून तो इक इम्तियाज़ से
آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشت کرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے
اگے بچھا کے نتا کو لا تے تھے، تیغ اور تشت سے۔ کرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے۔
8
माने हों क्यूँ कि गिर्या-ए-ख़ूनीं के इश्क़ में है रब्त-ए-ख़ास चश्म को इफ़शा-ए-राज़ से
مانع ہوں کیوں کہ گریۂ خونیں کے عشق میں ہے ربط خاص چشم کو افشائے راز سے
مانے ہوں کیوں کہ گِریّا-ے-ख़ूनीं کے عشق میں، ہے ربط-ے-ख़ास چشم کو افشاء-ए-راز سے
9
शायद शराब-ख़ाने में शब को रहे थे 'मीर' खेले था एक मुग़बचा मोहर-ए-नमाज़ से
شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میرؔ کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
شاید شراب خانے میں شب کو 'میر' मौजूद थे، اور وہ نماز کی چادر سے لیے گئے ایک سکے کے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.